خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 141 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 141

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۱ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔ہمارے دل میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آئے گا کہ خدا کے دین سے منہ پھیر لیں۔تب آسمان سے فرشتے آئیں گے اور تمہارے پاؤں کو صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم کر دیں گے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اِنْ تَنْصُرُوا اللہ کی کیفیت میں طَاعَةُ وَقَوْلُ مَعْرُوفٌ میں مانی ہوئی ہے۔چنانچہ سورہ محمد میں آگے چل کر طاعة کے یہ معنے بیان ہوئے ہیں کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ بعض باتوں میں ہم تمہاری اطاعت کریں گے اور بعض باتوں میں اطاعت نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسا نہیں ہو سکتا۔تمہیں کامل اطاعت کرنی پڑے گی۔اس وقت بھی اطاعت کرنی پڑے گی جب امام نے ابھی عزم نہیں کیا کیونکہ مومن اس وقت بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم اطاعت کریں گے پھر ان کے مشورہ اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق جب ایک فیصلہ ہو جاتا ہے تو وہ شخص جو مومن ہے اور پختہ ایمان والا ہے اور جو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا چاہتا ہے۔جو کامل اطاعت کا نمونہ دکھا رہا ہوتا ہے۔جو نیکی کی باتیں کرتا اور خود اپنے معاشرہ میں نیک باتیں کرتا ہے۔وہ اس فیصلہ پر بے اختیار یہ کہہ اُٹھتا ہے۔اے خدا! میری روح کی بھی یہی آواز ہے۔جو تیرا حکم آیا ہے میں تیرا ممنون ہوں کہ تو نے میرے لئے پہلے ہی ہدایت کےسامان پیدا کر دیئے ہیں۔لیکن ایک گروہ کمزور ایمان والوں کا بھی ہوتا ہے چنانچہ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ کی رو سے جس وقت عزم کیا جاتا ہے تو ایسے لوگ اطاعت نہیں کرتے یہاں یہ بات یا درکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فَإِذَا عَزَمْتَ (آل عمران : ۱۶۰) فرمایا ہے یعنی کسی کام کے عزم کا ایک آدمی ذمہ وار ہے اور دینی لحاظ سے ہر کام کے اصل ذمہ وار تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں کیونکہ جھوٹا ہے وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے ہیں آپ زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے۔اس لئے فَإِذَا عَزَمْت کی رو سے دراصل عزم انہی کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے میرے جیسے کمزور بندوں کو آپ کی نیابت میں کھڑا کر دیتا ہے۔چنانچہ مجھ سے پہلے لاکھوں کروڑوں لوگ مختلف شکلوں میں آئے کئی اولیاء کی شکل میں آئے اور