خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۳۸ خطبہ جمعہ ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء وقت پر پڑھنی چاہیے، مسجد میں جا کر پڑھنی چاہیے، باجماعت پڑھنی چاہیے، خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنی چاہیے وغیرہ سینکڑوں ہزاروں احکام ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا دو 66 ہے یہ بھی قول معروف ہے یہ بھی نیکی کی باتیں ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کو کہتے رہنا چاہیے ”ذکر“ میں بھی اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور امام کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو احکام یاد دلاتا رہے۔چنانچہ میرا آج کا خطبہ بھی اسی ”ذکر“ کے نتیجہ میں ، اسی کی روشنی میں اور اسی حکم کے ماتحت ہے اس لئے کسی کے متعلق بدظنی کی بات نہ کی جائے۔حسن ظن کی جو بات کی جاتی ہے عزت واحترام کی جو بات کی جاتی ہے۔جو حقارت کی بات نہیں ہوتی جو پیارے پیارے نام رکھ کر بات کی جاتی ہے اور برے نام نہیں رکھے جاتے۔حقارت، ہنسی اور تمسخر نہیں کیا جاتا، غرض یہ ساری باتیں قول معروف کے اندر آ جاتی ہیں یعنی نیکی کے احکام یاد دلانا اور دوسروں کے متعلق اپنی نیک رائے کا اظہار کرنا۔بدظنی نہیں کرنی ، آپس میں بھی نہیں کرنی مگر جس کو خدا تعالیٰ نے امام بنا دیا ہے اس کے متعلق تو بالکل ہی نہیں کرنی کیونکہ اس میں اور بہت ساری ذمہ داریاں آجاتی ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ ایک استاد کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے شاگرد کے متعلق اس قسم کی بات کرے اور اسی طرح شاگرد کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے استاد کے متعلق اس قسم کی بات کرے جو قول معروف کے منافی ہے۔اسی طرح اگر تم امیر ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا کہ اپنے باور چی یا اپنے گھر میں صفائی کرنے والے کے متعلق قول معروف کے علاوہ کوئی اور بات کر وہ تم ان کے متعلق بھی نیک بات کرو۔ان سے بھی پیار کی بات کرو ان سے بھی عزت واحترام سے پیش آؤ ورنہ قول معروف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔پس ان تنصُرُوا الله کی رو سے تم نے اپنے اندر وہ ذہنیت پیدا کرنی ہے اور تم نے طاعة وَقَوْلُ مَعْرُوف کے لحاظ سے ایک تو کامل اطاعت کا نمونہ دکھانا ہے۔دوسرے اپنے معاشرہ میں کامل محسن کا نمونہ دکھانا ہے کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے عظیم نور کی طرح خود بھی ایک عظیم نور تھے۔آپ ایک ایسا نور تھے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ایسا حسن کہ دو خوبصورتیوں میں کوئی دوئی نہیں ہے، کوئی غیریت نہیں ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کا جو وو