خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۹ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء صداقت ہے۔ہر مخلص مومن احمدی تمہاری اس حرکت کو نفرت اور کراہت سے دیکھتا ہے۔مومنین کی یہ جماعت قہر الہی کے نتیجہ میں خدا نہ کرے کم نہیں بلکہ روز بروز بڑھ رہی ہے۔مگر جو دو ایک ایسے آدمی ہیں جو قضائے الہی سے فوت ہو جاتے ہیں یا ان کے بچوں کی وفات ہو جاتی ہے تو تم کہہ دیتے ہو یہ ہماری وجہ سے ہوئی ہے۔جو چیز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے نہیں ہوسکی تمہاری وجہ سے بھی نہیں ہو سکتی۔پس اس قسم کے جو اولیاء بنے بیٹھے ہیں ان کو اپنے دل سے اس قسم کے شیطانی وساوس نکال دینے چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جسے ہم ربنا " کہتے ہیں۔اس رب نے اگر کسی انسان کے ساتھ انتہائی پیار کیا تھا تو وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔چنانچہ آپ کے دشمنوں کے سارے منصوبے خاک میں ملا دیئے گئے۔جو آدمی آپ کے خلاف تلوار لے کر نکالا تھا اور سوچا تھا کہ میں تلوار کے ساتھ مسلمان کی گردن کاٹوں گا ، تلوار ہی سے اس کی گردن کاٹ دی گئی اور جو تلوار لے کر نہیں نکلا تھا بلکہ جس طرح آجکل کے زمانہ میں ہو رہا ہے جھوٹے ، غلط اور دھوکا دینے والے دلائل پر مشتمل لٹریچر کی اشاعت سے اسلام کے خلاف بدظنیاں پھیلائی گئیں اور جھوٹ بولے گئے اور افتراء پردازی کی گئی۔غرض اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے بالکل بودے اور فرسودہ دلائل دیئے گئے مگر ان دلائل کے مقابلے میں اور ان گالیوں کے خلاف آسمان سے بجلی نہیں گری۔اس کے مقابلے کے لئے آسمان سے خدا کا مسیح نازل ہوا۔جس نے دلائل کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسلام کو سچا ثابت کیا۔پس جو چیز نا معقول بھی ہے اور جو چیز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے خلاف بھی ہے اسے کس طرح روا سمجھا جا سکتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمنوں کی بہت ایذا پہنچی تو خدا نے فرمایا اے محمد ! اگر تم کہو تو ہم ان کو تباہ کر دیتے ہیں آپ نے عرض کیا۔اے میرے رب ! یہ لوگ ابھی میرے مقام کو پہنچانتے نہیں۔آپ نے سوچا ہوگا کہ انہی کی نسل سے میرے فدائی نکلیں گے۔پس نہ صرف یہ کہ اس موقع پر آپ نے اُن کے لئے بددعا نہیں کی بلکہ جب خدا تعالیٰ کا اذن ملا بددعا کا ، تب بھی آپ نے اُن کے لئے خدا کا رحم مانگا۔