خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 108

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۰۸ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء یعنی نوٹ بھی ہے اور اس طرح خط بھیج دیا کرتا ہوں کیونکہ بعض دفعہ یہ کام میں خود نہیں کر سکتا یا آدمی نہیں مل سکتا لیکن میں مجبور ہو کر اور بڑے دکھ کے ساتھ اس کا اظہار کر رہا ہوں مگر منافق کھڑے ہو کر کہتا ہے دیکھو یہ دنیا کے عیش میں پڑا ہوا ہے اور اڑھائی ہزار روپے لے کر خوب عیش لوٹ رہا ہے۔منافق نے یہ کہا ہے کہ میں لا محدود ذرائع کا مالک ہوں میں کہتا ہوں کہ یہ فقرہ تم نے سچ کہا ہے میں لامحدود ذرائع آمد کا اس لئے مالک ہوں کہ وہ جو دنیا کی ساری دولتوں اور خزانوں کا مالک ہے اس نے مجھے فرمایا تھا۔تینوں ایناں دیاں گا کہ تو رج جائیں گا“ اس لئے میں لامحدود ذرائع کا مالک ہوں مجھے تمہارے پیسے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے کس طرح پیسے دیتا ہے وہ تو محلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن:٣٠) کی رو سے اس کی شان نرالی ہے۔اس کے خزانے کا جب منہ کھلتا ہے تو کسی بزرگ کے اس قول کے مطابق وہ چھپر پھاڑ کے دے دیا کرتا ہے۔بعض دفعہ انسان ذراسی بات کے لئے دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے۔چنانچہ ایک دن مجھے پیسے کی ضرورت تھی میں نے دعا کی خدا یا مجھے پیسے دے کیونکہ تیرا یہ وعدہ ہے کہ تینوں ایناں دیاں گا کہ تو رج جائیں گا“ مجھے خیال آیا کہ کہیں میرے دل کا نفس ( اللہ تعالیٰ تو عالم الکل ہے ) یعنی میرے دل کا چور یہ نہ سمجھتا ہو کہ میں خدا تعالیٰ سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے کسی بندے کا مجھے محتاج نہ کر اور اس کے دل میں ڈال کہ میرے ایک دوسرے بندے کو ضرورت ہے اور وہ اس کو جا کر پیسے دے آئے میں نے دعا کی کہ خدایا میں نے اس طرح کے پیسے نہیں لینے۔میں نے کسی آدمی کا محتاج ہو کر پیسے نہیں لینے۔مجھے تو دے جس طرح بھی دیتا ہے۔چنانچہ میرے ایک بھائی نے مجھ سے اتنی ہی رقم قرض لی ہوئی تھی جتنی کی میں نے دعا کی تھی وہ میرا چھوٹا بھائی تھا اور میری نیت یہ تھی کہ میں نے اس کو واپسی کے لئے نہیں کہنا بے شک وہ واپس بھی نہ کرے۔بھائی بھائی کا حق بھی ہوتا ہے اور مجھے اس