خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 92
خطبات ناصر جلد چہارم ۹۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۲ء ایک نظام قائم کر دیا۔چنانچہ جب خلافت ثالثہ کے انتخاب کا وقت آیا تو وہ جو ساری عمر کے مخالف تھے اور جماعت مبائعین جن پر اللہ تعالیٰ کی نصرتیں اور فضل نازل ہورہے تھے ، کوحسد ، نفرت اور غصے کی نگاہ سے دیکھنے والے تھے۔ان کی زبان سے بھی یہ نکلا کہ کاش حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی ایسا انتظام کر جاتے تا کہ یہ فتنہ نہ پیدا ہوتا جو ۱۹۱۴ء میں رونما ہوا۔اس فتنہ سے ان کی کیا مراد ہے، یہ تو وہ جانیں یا اللہ تعالیٰ جانے لیکن بہر حال وہ بھی اس انتخاب خلافت کے نظام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔پس منافقین یہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلافت کمیٹی جو ۱۹۵۶ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے قائم کی تھی اُس نے خلیفہ ثالث کو مقرر کیا ہے۔اس لئے یہ خدا کا انتخاب کیسے ہو گیا؟ یہ تو انسانوں کا انتخاب ہے اور وہ بھی چند لوگوں کا کیونکہ ساری جماعت کو اکٹھا نہیں کیا گیا حالانکہ ساری جماعت تو جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی اکٹھی نہیں ہوسکتی۔بہر حال جو ممکن ہے وہ یہی ہے کہ جو اس وقت آجائے وہ اس میں شریک ہو جائے۔اس کا انتظام کر دیا گیا تھا جس کی بنا پر بڑی سہولت سے انتخاب عمل میں آیا اور جس کے نتیجہ میں خلافت کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی۔میرے تو وہم وگمان میں بھی کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے اتنی بھاری ذمہ داری کے نیچے رکھے گا جو چل دینے والی ہے۔لوگ اس کو مذاق سمجھتے ہیں مگر یہ اتنی بھاری ذمہ داری ہے کہ میں سمجھتا ہوں کوئی آدمی اپنے ہوش و حواس میں ایک لمحہ کے لئے بھی اس ذمہ داری کو اُٹھانے کی خواہش نہیں کرسکتا۔کہتے ہیں کہ میں نے باہر جا کر اپنے حق میں پرو پیگنڈہ کیا تھا کہ مجھے خلیفہ بنایا جائے۔اب اس وقت جو دوست یہاں بیٹھے ہوئے ہیں جن میں کچھ باہر سے بھی آئے ہوئے ہیں۔کوئی ہے جو کھڑے ہو کر قسم کھا کر یہ کہہ سکے کہ میں نے اُسے یہ کہا ہو کہ مجھے خلیفہ بنانا ؟ میں نے بتایا ہے کہ میرے تو دماغ میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا تھا۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات پر چوہدری انورحسین صاحب لے اس پر سامعین کی طرف سے نہیں ! نہیں !! کی آوازیں بلند ہوئیں۔