خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 91

خطبات ناصر جلد چہارم ۹۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۲ء باقی رہا نصرت جہاں ریزروفنڈ تو اس کے دراصل تین حصے ہیں۔ایک ہے مجلس نصرت جہاں اس کے انچارج یہ میرے سامنے بیٹھے ہمارے عزیز بھائی اسماعیل صاحب منیر ہیں ان کا جسمانی طور پر تو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ایک حدیقہ المبشرین ہے جس میں تمام شاہدین کو اکٹھا کر دیا گیا ہے ان کے جو انچارج ہیں اُن کا بھی خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پھر اس کے چندے وغیرہ کا جو انتظام ہے وہ اپنے چوہدری ظہور احمد صاحب جو ناظر دیوان ہیں ان کے سپر د کیا ہوا ہے اور وہ یہ کام رضا کارانہ طور پر کر رہے ہیں۔ان کا بھی خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔پس ایک غلط اور جھوٹی بات کو آنکھیں بند کر کے منہ سے نکال دینا اور اپنی حماقت سے یہ سمجھنا کہ دنیا تمہیں دیکھے گی نہیں یا دُنیا تمہاری شرارت کو سمجھے گی نہیں یا دُنیا سمجھنے کے باوجود تمہیں کچھ کہے گی نہیں یہ تو تمہاری سراسر جہالت ہے لیکن تم یہ کیسے سمجھ لیتے ہو کہ تم خدا تعالیٰ سے اپنی ان حرکتوں کو چھپا لو گے اور اس کے غضب سے بچ جاؤ گے۔چہارم۔ایک بات ( اور وہ بھی پہلی بار نہیں کہی جا رہی ) یہ ہے کہ خلیفہ خدا نہیں بنا تا انسان بناتا ہے۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ پر کیا گیا۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ پر کیا گیا ہے اور آج یہی اعتراض مجھ پر کیا جا رہا ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو انجمن کے چند آدمیوں نے خلیفہ منتخب کر دیا تھا پھر جماعت نے بھی آپ کی بیعت کر لی تھی۔حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کے متعلق زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جو دوست حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات پر قادیان میں موجود تھے ، وہ اکٹھے ہوئے اور جس طرح ایک آندھی آتی ہے اور وہ چیزوں کو ایک طرف کونے میں اڑا کر لے جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے احمدیوں کے دلوں پر تصرف کیا اور وہ سب ( إِلَّا مَا شَاءَ اللہ جن کو ٹھوکر لگی ) ایک ہاتھ پر ا کٹھے کر دیئے گئے۔پھر حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے ۱۹۵۶ء میں انتخاب خلافت کی ایک کمیٹی بنائی اور