خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 87
خطبات ناصر جلد چہارم ۸۷ خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء ویسے یہ ایک معمولی اعتراض ہے لیکن جہاں یہ ایک معمولی اعتراض ہے وہاں اعتراضات کی بے ہودگی کو بڑے نمایاں طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ یہ خدا کا عجیب خلیفہ ہے۔اپنے آپ کو روحانی جماعت کا امام کہتا ہے مگر گھوڑوں کی باتیں کرتا ہے۔یہ تمہارا خلیفہ جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ ایک روحانی جماعت کا امام ہے ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے ذرے کے برابر بھی نہیں ہے۔جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں کے متعلق اتنا کچھ فرمایا ہے تو آپ کے عظیم روحانی فرزند کا یہ خلیفہ کیوں کچھ نہیں کہے گا۔دوم۔ایک Whispering ( وس پرنگ ) یعنی کا نا پھوسی جو منافق کرتا ہے کیونکہ وہ دلیر تو ہوتا نہیں اس لئے دلیری کر کے سامنے نہیں آتا مگر در پردہ فتنہ اور فساد پیدا کرتا ہے۔چنانچہ ان کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں کا صحیح مصرف نہیں ہورہا۔تحریک جدید کے جو چندے ہیں دراصل وہ تو ایک بنیاد ہے۔جہاں تک یہاں پاکستان کے چندوں کا تعلق ہے وہ مبلغوں کے کرائے اور کتابوں وغیرہ پر خرچ ہوتے ہیں یا مبلغ بنانے پر خرچ ہوتے ہیں اور جو باہر کے چندے ہیں وہ باہر کے مشنوں پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دُنیا میں پھیلے ہوئے اور ترقی کر رہے ہیں اُن پر خرچ ہورہے ہیں۔وقف جدید کے زیر انتظام ہمارے یہاں معلمین ہیں۔اُن کے سنٹر ہیں۔اُن کا اپنا ایک نظام ہے۔اس کے اوپر وقف جدید کا چندہ خرچ ہو رہا ہے۔شوریٰ میں ہر سال بجٹ پاس ہوتا ہے۔کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ہر چیز ظاہر ہے۔اب اس کے باوجود یہ کہنا کہ جی چندوں کا صحیح مصرف نہیں ہورہا بالکل بے ہودہ بات ہے۔پھر اس کے متعلق جو مثال دی گئی ہے وہ بھی سننے والی ہے۔کہنے والے نے کہا کہ دیکھو میاں طاہر احمد صاحب کو کراچی جانا ہو تو وہ ہوائی جہاز پر سفر کرتے ہیں اور تحریک جدید کے جو مبلغ وطن سے باہر جاتے ہیں، ان کو یہ سہولت میسر نہیں حلانکہ تحریک جدید کا جو مبلغ باہر جاتا ہے مجھے نہیں یاد که الا ماشاء اللہ کسی نے کسی وقت شاید دوسرے ذرائع سے سفر کیا ہو) وہ بغیر ہوائی جہاز کے