خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 64
خطبات ناصر جلد سوم ۶۴ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء گمشکوة ( النور : ۳۶) میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی مثال دی گئی ہے یعنی ایک تفسیر اس کی یہ ہے کہ اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ “ کا تو اللہ کے ساتھ تعلق ہے اور مَثَلُ نُورِهِ گمشکوۃ “ سے جس کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم ہے یعنی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ ایک طرف تو اپنی پیدائش اور خلق کے لحاظ سے اور ان قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا ہوئی تھیں آپ نور مجسم تھے اور اس نور مجسم پر جب آسمانوں سے اللہ تعالیٰ ( جو سر چشمہ ہے تمام انوار کا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار بھی اسی سر چشمہ سے نکلتے ہیں) کی وحی نازل ہوئی تو آپ نُورٌ عَلى نُورٍ ہو گئے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو خدا داد نور تھے جو روحانی قوتوں اور استعدادوں کی شکل میں آپ کو عطا ہوئے تھے ان پر جب اللہ تعالیٰ کی وحی کا نور نازل ہوا تو کامل نور کی صورت آپ بنی آدم کی طرف مبعوث ہوئے اور آدم سے لے کر ہر نبی نے آپ ہی کے نور نبوت سے اپنی شمع نبوت روشن کی۔پھر ہم لوگ جو حقیقت محمدیہ کو پہچانتے ہیں جانتے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام اخلاق فاضلہ کو اپنے وجود اور اسوہ میں جمع کرنے والے تھے جس کی جھلک ہمیں گزشتہ تمام انبیاء میں مختلف طور پر نظر آتی ہے۔پس انبیائے ماسبق اور خدا تعالیٰ کے وہ پیارے جو بعد میں پیدا ہونے والے تھے ان سب کے اندر ہمیں اخلاق فاضلہ کی جو جھلک نظر آتی ہے جو متفرق طور پر آدم سے لے کر قیامت تک بنی نوع انسان میں پھیلی ہوئی ہے وہ تمام اخلاق ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں جمع نظر آتے ہیں۔اسی لئے قرآنِ کریم نے یہ فرمایا إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ( القلم ) (۵) پھر ہم جو اس علم پر علی وجہ البصیرت قائم کئے گئے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور ختم المرسلین ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں اور دنیا میں اس کی منادی کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی مجد داعظم ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ اظہارِ صداقت کے لئے آپ جیسا کوئی اور مجدد پیدا نہیں ہوا۔سچائی کے اظہار کے لئے اور گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لانے کے لئے آپ ہی سب سے بڑے مجدد ہیں۔روحانیت کے قیام کے لئے