خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 63
خطبات ناصر جلد سوم ۶۳ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرآءيل: ۸۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جاء الحق میں الحق سے مراد خدا تعالیٰ کی ذات بھی ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بھی ہے اور قرآن کریم کی شریعت و ہدایت بھی ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہونے کے نتیجہ میں ہر پہلے اور پچھلے پر نظر رکھتے ہیں اور ان کی جسمانی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور قرآن کے وہ حصے ان کو باذن الہی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملتے رہے جو ان کے مناسب حال تھے۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس عظیم شان کے تھے ہمارے محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔وہ لوگ جنہیں حقیقت محمدیہ کا عرفان عطا ہوا جانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسے انسان ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جاودانی حیات ملی ہے۔ایک زندہ نبی ، خدا کا پیارا نبی صرف ہمارا یہ نبیوں کا سردار اور رسولوں کا فخر ہی ہے جسے دنیا محمد مصطفی احمد مجتبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے جانتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جاودانی زندگی کا ہمیں اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس پاک ختم المرسلین کا افاضۂ روحانی قیامت تک جاری ہے اور آپ کی پیروی ہمیشہ ہی ہر زمانے میں اور ہر نسل کے لئے روحانی طور پر زندگی بخش ثابت ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی اگر کسی کو کچھ شبہ ہو تو آج ہم ( جماعت احمدیہ ) اس کی تسلی کرانے کے لئے تیار ہیں کہ حقیقی روحانی حیات کے مالک حضرت محمد خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ حقیقی زندگی اور سچی زندگی اور ہمیشہ رہنے والی کامل زندگی وہ ہے جس سے ہمیشہ کے لئے فیوض کے سرچشمے پھوٹتے رہیں اور وہ تمام انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔پھر ہم جنہیں مقام محمدیہ کی معرفت ملی ہے ہم جانتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم نور کی حیثیت سے دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُم نُورًا مبينا (النساء: ۱۷۵) اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سورۃ النور کی آیت نمبر ۳۶ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ مَثَلُ نُورِہِ