خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 556 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 556

خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۷۱ء سے بھی پہلے کی بات ہے کہ ) بعض سے میں پوچھتا تھا کہ جتنا زمین سے وہاں کما رہے تھے اس سے کم کما رہے ہو یا زیادہ وہ کہتے تھے زیادہ کما رہے ہیں حالانکہ انہیں جو زمینیں الاٹ ہوئی تھیں وہ پہلے سے کم تھیں۔میں پوچھتا تھا واپس جاؤ گے تو وہ کہتے تھے واپس جانے کو دل تو کرتا ہے لیکن وہاں جا کر اتنی آمد نہیں ہوگی جتنی یہاں ہو رہی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے فضل کیا اگر چہ ۱۹۴۷ء میں ہماری ساری زمین وغیرہ چھن گئی اور یہاں بظاہر کم زمین دی گئی لیکن اس میں برکت ڈال دی گئی جس سے آمد زیادہ ہونے لگی۔جماعت کو دیکھ لیں۔جماعت احمدیہ کی مجموعی آمد ۱۹۴۷ء سے اب تک کم از کم دس گنا بڑھ چکی ہے اور یہ میں مغربی پاکستان میں رہنے والوں کا ذکر کر رہا ہوں کوئی یہ نہ سمجھے کہ باہر کے ملکوں میں لوگ احمدی ہو گئے ہیں اس لئے آمد بڑھ گئی ہے۔غرض مغربی پاکستان میں بسنے والی جماعت کی آمد ۱۹۴۷ء سے دس گنا زیادہ ہو گئی ہے جن میں سے ایک دوست جن پر ابھی میری نظر پڑ گئی ہے ان کی وہاں چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں جن کی قیمت ۵۰۰ یا ہزار سے زیادہ نہیں تھی مگر یہاں خدا تعالیٰ نے انہیں لاکھوں کی جائیداد دے دی ہے۔پس سارے اموال کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس کے پیار میں محو ہوکر اپنا سب کچھ قربان کر دے اور انسانوں میں سے ہر ایک فرد کا سب کچھ کیا ہوتا ہے یہی پانچ روپے، پانچ سوروپے، ہزار روپے، لاکھ روپے، دس لاکھ روپے یا ایک کروڑ روپے۔تو جب ہم فرد واحد کے متعلق کہتے ہیں کہ سب کچھ قربان کر دو تو اس کا یہی مطلب ہے کہ دنیا کی یہ دولت جو محدود ہے اور گنتی اور شمار میں آنے والی ہے اس کو قربان کر دو لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں اپنا سب کچھ دوں گا جس کا کوئی شمار نہیں اور جو غیر محدود ہے پس یہ گھاٹے والا سودا نہیں ہے۔اس لئے ہم نے خوشی اور بشاشت سے تکلیفیں برداشت کرنی ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا توکل اور بھروسہ رکھتے ہوئے پہلے سے زیادہ قربانیاں دینی ہیں اور پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کو حاصل کرنا ہے۔انشاء اللہ۔غرض جنگ میں تو اُتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے لیکن ایسے حالات میں بھی جو ہمارا رد عمل ہے خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے کا اور اپنی جگہ پر اس یقین پر قائم رہنے کا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو