خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 550

خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۱ء ہوں اور نہ سیاست سے مجھے کچھ سروکار ہے بلکہ ایک عاجز درویش اور خدا کے ایک ادنی بندے کی حیثیت سے انہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تمہارے ملک میں جو مسلمان بستے ہیں اگر تم نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا اور ان کے حقوق ادا نہ کئے اور ان پر ظلم کرنے کی کوشش کی تو بندوق اور سیاسی اقتدار نہ رکھتے ہوئے بھی یہ عاجز بندہ تمہیں یہ کہتا ہے کہ جس خدا پر ہم یقین رکھتے ہیں اور ایمان لائے ہیں اور جس کی صفات کے شاندار مظاہرے ہم نے دیکھے ہیں۔اسی خدا پر توکل رکھتے ہوئے اور یقین رکھتے ہوئے اور ان بشارتوں کو جو اس نے ہمیں دی ہیں سچا سمجھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ اگر تم نے ظلم کیا اور ایذاء رسانی کی راہیں تم نے اختیار کیں تو تمہاری گردن کاٹ دی جائے گی اور تم کبھی کامیاب نہیں ہو گے۔اس لئے تم اپنے اور اپنے بچوں اور بیویوں اور اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر اپنی رعایا میں سے جو مسلمان ہیں اور بھارت میں جہاں بھی وہ آباد ہیں، ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو اور ان کے حقوق ادا کرو ورنہ اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا اور یہ قہر الہی اس قہر الہی کے علاوہ ہو گا جس کے تم پاکستان پر سفاکانہ اور وحشیانہ حملہ کر کے مستحق ٹھہرے ہو۔تم یہ نہ دیکھو کہ میرے ہاتھ میں تو چھوٹے سے چھوٹا ہتھیار بھی نہیں۔تم کوشش کرو کہ اس خدائے قادر و توانا کو دیکھنے کی تمہیں آنکھیں ملیں۔جس کی قدرت کے جلوؤں نے تمہیں زندگی دی اور اس زندگی کو قائم رکھا ہوا ہے کیونکہ اگر اس خدائے قادر و توانا کے غضب کی لہریں تمہارے ملک پر آگئیں تو پھر اگر ساری دنیا کے ہتھیار بھی تمہاری حفاظت کے لئے آگئے تو وہ بھی تمہیں بچا نہیں سکیں گے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ / دسمبر ۱۹۷۱ ء صفحه ۳، ۴)