خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 549 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 549

خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۹ خطبہ جمعہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۱ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ دشمن میرے باغ میں داخل ہوئے (بڑی وحشت کا اظہار ہے۔اس کی تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاسکتا۔مختصر خطبہ دینا چاہتا ہوں۔اگر حالات نے اجازت دی تو اسی تسلسل میں اس اختصار کی تفصیل بھی بیان کروں گا ) اور میں گھبرایا۔یہ رویا آپ نے عربی میں بیان فرمایا ہے۔اس کا ترجمہ تذکرہ کے مختلف ایڈیشنوں کے صفحہ ۲۲۳ اور ۲۲۶ پر چھپا ہوا ہے۔آپ نے اس رؤیا کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسے حالات میں کہ میں خود کو اکیلا دیکھتا ہوں اور کوئی مددگار اور کوئی دوست مجھے نظر نہیں آ رہا۔ایسے حالات میں بھی اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور میرے دشمن کے سر اور اس کے جوارح کاٹ کر پھینک دیئے گئے۔اس وقت میں ضمناً قادیان میں بسنے والے بھائیوں کے متعلق دعا کے لئے بھی کہنا چاہتا ہوں۔ابھی اس جنگ کے آثار ہی تھے۔میرے خیال میں ۲۲ نومبر سے بھی پہلے کی بات ہے یعنی مشرقی پاکستان پر ابھی حملہ نہیں کیا گیا تھا کہ ہمیں علم ہوا کہ قادیان میں بسنے والے عاجز درویش بھائی یہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ جنگ ہوئی تو انہیں تنگ کیا جائے گا۔اب حالاتِ جنگ پیدا ہو گئے ہیں اب ہمارا تو ان کے ساتھ ملاپ نہیں رہا ، نہ وہاں تار جاتی ہے نہ وہاں خط جاتا ہے لیکن وہ اس خدشے کا اظہار کہیں پہلے سے کر چکے ہوئے ہیں۔اس واسطے بڑی دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری غفلتوں کو اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے ڈھانپ لے اور جو تھوڑی بہت اس نے ہمیں تو فیق دی ہے اس کے حضور کچھ پیش کرنے کی اور اُسے خوش کرنے کے لئے جدو جہد کرنے کی وہ اسے قبول کرے اور جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ تو پورے ہوں گے ہی لیکن اس نے جو وعدے کئے ہیں خدا کرے وہ ہماری زندگی میں پورے ہو جا ئیں۔اس لئے دوست بہت دعائیں کریں۔میں بھارت کو بھی ایک تنبیہ کرنا چاہتا ہوں دیکھو آج کی فوج کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ہتھیار رائفل ہے لیکن میرے اور میری جماعت کے پاس رائفل بھی نہیں ہے۔اس واسطے میں ڈ نیوی طاقت کے گھمنڈ میں نہیں کہہ رہا نیز یہ کوئی سیاسی بیان بھی نہیں کیونکہ میں سیاستدان نہیں