خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 541
خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۱ خطبہ جمعہ ۳/ دسمبر ۱۹۷۱ء اور اُس وقت اگر اسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جائے گی تو اسی قسم کی رحمتوں اور فضلوں کے سامان پیدا کئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس ایک آیت میں (میں نے شروع کا ایک حصہ لیا ہے اُن آیات سے جو میں نے پہلے پڑھی تھیں) ایک مضمون تو وہ بیان کیا ہے جو اس موقع کا تھا اور دوسرے ایک بڑا عجیب فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔موقع کا مضمون تو یہ ہے کہ سارے کفار ا کٹھے ہو گئے اور اکثریت تھوڑوں کو مٹانے کے لئے جمع ہوگئی اور وہ بڑے ساز و سامان کے ساتھ آئے۔یہودیوں کے دو قبیلے اور چار پانچ بڑے بڑے طاقتور قبائل کفار مکہ کی قیادت میں وہاں جمع ہوئے اور مسلمانوں کو گھیر لیا اور مجبور کیا۔یہودیوں میں سے ایک قبیلے نے جو پہلے غداری کر چکا تھا اور اپنے عہد کو توڑ چکا تھا اس قبیلے کو جس نے ابھی تک عہد نہیں تو ڑا تھا ، مجبور کیا کہ وہ اس نازک وقت میں اپنے عہد کو تو ڑ کر اسلام کے ساتھ غداری کرے اور اس طرح وہ طرف اور جانب جو محفوظ سمجھی گئی تھی تنگی ہو گئی اور اس سے ایک اور ابتلاء پیدا ہو گیا۔غرض ابتلاء پر ابتلاء آرہا تھا یہاں تک کہ ایسا وقت بھی آیا کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ انہیں تین دن تک کھانے کو کچھ نہیں ملا۔خود حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ پر پتھر باندھ لیا۔چنانچہ ظلم جب اپنی انتہاء کو پہنچا اس وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک بڑا ہی حسین جلوہ نظر آیا، ایک نہیں بلکہ دو بڑے حسین جلوے دیکھنے میں آئے۔( جلوے تو بہت تھے مگر یہاں دو کا اصولی طور پر ذکر کیا گیا ہے)۔ایک یہ کہ سخت سردی کی رات میں خدا تعالیٰ نے اس رات سے بھی زیادہ سخت ٹھنڈی اور تیز ہوا چلا دی۔اس ہوا کی سردی کی شدت کفار کے لئے ناقابل برداشت ہوگئی اور اس کی تیزی نے انہیں جھنجوڑ کر رکھ دیا یہاں تک کہ ان کے خیموں کی کلیاں اکھڑ گئیں۔طنا میں ٹوٹ گئیں۔خیمے نیچے آ پڑے۔آگئیں بجھ گئیں ، ہانڈیاں لڑھک گئیں، ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ایک قیامت تھی جس نے کفار کے دل ہلا دئے اور اپنی تو ہم پرستی کے نتیجہ میں انہوں نے کہا مارے گئے! مارے