خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 535 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 535

خطبات ناصر جلد سوم ۵۳۵ خطبہ جمعہ ۲۶ نومبر ۱۹۷۱ء کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ اس کے غضب کے نیچے آئے اور جہنم میں دھکیل دیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا کا عبد مومن اور عبد محسن بنے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو اس دنیا میں بھی پائے اور اُس دنیا میں بھی پائے۔اس لئے ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور اللہ تعالیٰ ان کے اندر نیک تبدیلیاں پیدا کر کے انہیں اپنے پیار کا مستحق بنائے تا کہ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ کسی دوسرے ہمسایہ ملک پر بھی ظلم کرنے والے نہ بنیں۔ان کے اپنے ملک میں بھی بعض لوگ اچھوت نہ رہیں بلکہ سارے ”انسان“ بن جائیں جن کی عزت اور احترام ہر دوسرے انسان پر فرض کیا گیا ہے۔ہماری یہ دعائیں ہیں۔خدا کرے کہ ہماری یہ دعائیں قبول ہوں اور ہماری یہ ذمہ داریاں ہیں جن کی طرف میں نے توجہ دلائی ہے کہ جس وقت دنیا کا کوئی وسیلہ ہمیں نظر نہ آئے اس وقت بھی ہم مایوس نہ ہوں کیونکہ ہمارا وسیلہ اور سہارا ہمارا معاون اور مددگار اور ہمارا دوست اور ولی اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کی جو طاقت ہے دنیا کے سارے مادی سامان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ سارے مادی سامان تو اس کے غلام ہیں۔پس ہماری جو ذمہ داریاں ہیں وہ ہمیں نباہنی چاہئیں۔ہمارے دلوں میں شیطان جو مایوسی پیدا کرنا چاہتا ہے ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔اگر سرحدوں پر موت ہمارے سامنے کھڑی ہو تو دلیری کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم اس کی طرف آگے بڑھ جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قتل اور موت سے تمہارا فرار تمہیں نفع نہیں دے سکتا۔اس لئے جو چیز ہمیں نفع ہی نہیں دے سکتی وہ ہم کیوں اختیار کریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ تم شہادت کے لئے تیار ہو جاؤ گے تو تمہیں دنیا کی کوئی طاقت نہیں مارسکتی ،تم کامیاب ہوئے تب بھی زندہ اور شہید ہوئے تب بھی زندہ۔پاگل ہے وہ شخص جو شہید کومردہ سمجھتا ہے اور وہ اس لئے پاگل ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی یہیں اس دنیا میں ختم ہوگئی۔نہیں ! یہ زندگی اس دنیا میں ختم نہیں ہوئی۔کیا وہ شخص مظلوم ہے؟ کیا وہ شخص گھاٹے اور نقصان میں ہے جسے ایک نہایت بوسیدہ اور متعفن اور بد بودار جگہ سے اُٹھا کر ایک شاندار محل کے اندر بھیج دیا جائے۔جن میں نہریں بہتیں