خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 452 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 452

خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۲ خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۷۰ء یہ قوتِ احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔یہ اس کا بڑا فضل ہے انسان خود اس قوت کو پیدا نہیں کر سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے قوت احسان کو پیدا کیا ہے غرض جو آدمی آتا ہے اگر اس کا کام جائز ہو تو وہ کر دیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دودن پہلے اس نے ہمیں نہایت گندی گالیاں دی تھیں اور اسی طرح اس نے ساری عمر گالیاں دینے میں گزار دی اور ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ناجائز طور پر احمدیوں کو نقصان پہنچانے میں اگر کامیاب بھی ہو گیا تو کوئی بات نہیں۔دنیوی لحاظ سے ابتلاء بھی آتا ہے ہم یہ نہیں دیکھتے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں۔اگر جائز ہے تو وہ ہم سے تعلق رکھنے والا ہے یا ہماری مخالفت کرنے والا ہے اس کو ہم خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے۔ہم اس کی مدد کرتے ہیں۔پس اس قسم کی ۸۰ سالہ مخالفت جو اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری نہیں تھی ، اس کے نتیجہ میں بھی نہ ہماری مسکراہٹیں چھینی گئیں اور نہ ہم سے قوتِ احسان چھینی گئی۔اب جس آدمی کے ساتھ آپ پیار کا اور محبت کا تعلق رکھتے ہیں یا جس کے ساتھ آپ ہمدردی اور غمخواری کرتے ہیں۔وقت پر اس کے کام آتے ہیں۔مصیبت کے وقت اس کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو وہ سمجھتا ہے کہ اعتقاداً ہم ایک نہیں لیکن ہمارے دل ایک ہی قسم کی حرکت کر رہے ہیں اس طرح وہ دو نہیں، ایک ہو جاتے ہیں جس وقت ایسے وقت آتے ہیں تو اگر وہ دلیر ہیں اور اگر ان کے حالات اس کی اجازت دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں جدھر تم جاؤ گے ادھر ہم جائیں گے لیکن اگر ان کے حالات اجازت نہ دیں تو وہ ہمارے کان میں آکر کہتے ہیں تم فکر نہ کرو ہم جائیں گے تو اس راستے سے مگر ووٹ تمہیں دیں گے پس ہماری قوتِ احسان اور ہمارے پیار اور ہماری محبت کے نتیجہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہمارا ساتھ دیتے ہیں اس لئے صرف احمدی ووٹ نہیں بلکہ جس حلقے میں بھی جدھر احمدی گیا وہ اپنے ساتھ دُگنے تگنے ووٹ لے کر گیا۔بعض عقلمندوں کو الیکشن سے پہلے یہ نکتہ سمجھ آ گیا تھا چنانچہ گجرات سے ہمارے ایک دوست آئے وہ احمدی نہیں تھے کہنے لگے کہ آپ میری مدد کریں وہ خود ہی کہنے لگے کہ میرے حلقہ انتخاب