خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 444

خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۴ خطبه جمعه ۲۵ دسمبر ۱۹۷۰ء جو فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم : ۳۱) کے مطابق ہے۔ان اصولِ شریعت یا اصول ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارے۔حبل اللہ کے دوسرے معنے اللہ کے عہد کے لئے کئے گئے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ جو عہد اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے یا جو عہد اللہ تعالیٰ نے باندھا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کون سے عہد باندھے ہیں یا اس کے لئے کون سے میثاق قرار دیئے ہیں؟ قرآن کریم میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔اس وقت میں صرف ایک بات لے کر اس پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔مَنْ صَلَّى صَلَو تَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيْحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي 6 لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةً رَسُوْلِهِ فَلَا تُخْفِرُ اللهَ فِي ذِمَّتِہ میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔جو شخص ہماری نماز جیسی نماز پڑھے یعنی جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں ویسے ہی وہ نماز پڑھ رہا ہو اور قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہو اور ہمارے ذبیحہ کو کھا رہا ہو اور جو چیزیں کھانے کے لحاظ سے حرام ہیں ان سے بچنے والا ہو تو ذلِكَ الْمُسْلِمُ۔یہ وہ مسلمان ہے ( آگے یہ نہیں فرمایا کہ جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے کیونکہ اور بہت ساری شرائط ہیں مثلاً نیت کا تعلق ہے۔احسان فی العمل کا تعلق ہے انسان پوری شرائط اور انتہائی جدو جہد کے ساتھ اعمال صالحہ کو خوش اسلوبی سے انجام دینے والا ہو ، وہ اور چیز میں ہیں یہاں یہ فرما یا یہ وہ مسلمان ہے ) جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی امان اور حفاظت میں ہے پس اے مسلمانوں! جو عہد اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان باندھا ہے کہ تم ہر ایسے شخص کو ( محولہ بالا حدیث کی رو سے) مسلمان سمجھتے ہوئے اس کے سیاسی اور معاشرتی حقوق کو ادا کرو گے ، اس عہد کو نہیں توڑنا۔غرض "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا “ (ال عمران : ۱۰۴) میں ایک اصولی بات بتائی تھی اس کی بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں ایک تفسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے اور قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کرتا ہے۔ویسے ہم ہر دعا کے وقت قبلہ رخ نہیں ہوتے مثلاً عید کی نماز ہے یا خطبہ جمعہ میں بھی