خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 433

خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء کسی اور قسم کے عذاب کے مورد بنے اور اس طرح اصولی طور پر بتادیا کہ ہم منکرین انبیاء کومختلف عذابوں کے ذریعہ پکڑتے ہیں۔پس ایک یہ تدبیر کی جاتی ہے کہ سارے اکٹھے ہو کر الہی سلسلے کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں مگر ہلاک نہیں کر سکتے۔ایک اور تدبیر اِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا کی رو سے تاریخی لحاظ سے ہمیں جو نظر آتی ہے وہ کھانے میں زہر دے کر مارنا ہے۔ایک تو دھوکے سے مارنا ہے اسے اس کا حصہ بھی بنا سکتے ہیں اور اسے ایک م مستقل حیثیت بھی دے سکتے ہیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے میں زہر ملا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔یہ ۶۲۸ء کا واقعہ ہے۔یہودیوں نے بھنا ہوا گوشت پیش کیا تھا اور اس میں زہر ملا ہوا تھا۔اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔بہر حال کفار کا ایک قسم کا منصوبہ یہ تھا کہ کھانے میں زہر ملاؤ اور اس طرح مسلمانوں کو قتل کرو یہ بھی ویسے دھو کے دہی کی ایک شکل بن جاتی ہے لیکن چونکہ یہ بڑی اہم چیز ہے اس واسطے میں نے اس کو علیحدہ رکھا ہے۔تو گویا زہر دے کر مارنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ قوم جو اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی طرح اس کی ذات اور صفات کی معرفت رکھنے والی ہے وہ اس ناپاک سازش سے محفوظ رہتی ہے۔اس وقت صحابہ رضوان اللہ علیہم کے خلاف کتنی سازشیں کی گئی ہوں گی۔بعض تو ظاہر ہو گئی تھیں بعض اندر ہی اندر نا کام ہوگئیں۔وہ ظاہر بھی نہیں ہوئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو اس قسم کی زہریلی سازشوں سے محفوظ رکھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی زندگی کے طفیل اللہ تعالیٰ قیامت تک آپ کے سچے متبعین کو اس قسم کی سازشوں سے محفوظ رکھے گا۔پس ایک سچے مسلمان سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ تمہارے خلاف سازشیں تو کی جائیں گی اور میں ان سازشوں کو تکمیل تک پہنچانے کی اجازت بھی دے دوں گا لیکن ان سازشوں کا وہ نتیجہ نہیں نکلنے دوں گا جو مخالفین چاہتے ہیں کہ نکلے۔فرمایا ” اكيد كيدا‘ اس وقت میں اپنا منصوبہ جاری کروں گا۔اس وقت میری صفات حسنہ کا ملہ تمہارے حق میں بھی رعب کی شکل میں ظاہر ہوں