خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 427
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۷ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء مخالفین کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔انہوں نے تو یہ سوچا ہوگا کہ اس طرح بھی اسلام کو ضرب لگے گی یعنی اگر کوئی سارے مذہبی علماء کو قتل کرنا چاہے تو اس کی خواہش تو یہی ہوگی کہ علم دین اسلام جاننے والے باقی نہ رہیں۔تو حفاظ کے اس قتل میں بھی ایک خیال یہی کارفرما تھا کہ قرآن کریم کو زبانی یاد رکھنے والے باقی نہ رہیں اور اس طرح اسلام کے اندر کمزوری پیدا ہو جائے۔بعد میں کئی اور خرابیاں بھی پیدا ہو سکتی تھیں لیکن قرآن کریم کو نازل کرنے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے قادر و توانا خدا نے فرما یا کہ نہیں! میں تمہارا یہ منصوبہ خاک میں ملا دوں گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ اس میں ہر قسم کا دھوکہ ہوسکتا ہے۔پیچھے سے چھر ابھی گھونپا جا سکتا ہے۔جس طرح دھو کے سے لے جا کر حفاظ کو قتل کیا تھا۔اس طرح بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔۱۹۴۷ء میں جس طرح سکھوں اور ہندوؤں نے ریلیوں کو پٹڑیوں سے اتار دیا تھا جن میں مسلمان آ رہے تھے وہ بھی ایک دھو کے کا قتل ہے لیکن دھو کے سے قتل کرنا اصولی طور پر یہ ایک عنوان ہے جس کے نیچے کفار کے بہت سارے اعمال آجاتے ہیں۔کبھی وہ ایک قسم کا دھو کہ کرتے تھے کبھی دوسری قسم کا دھو کہ کرتے تھے مگر جب بھی وہ دھو کہ کرتے تھے خدا تعالیٰ اپنی ایک نئی اور نرالی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا تھا اور ان کے ناپاک منصوبے کو ناکام بنادیتا تھا۔عجیب تھا وہ انسان (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور عجب تھے وہ لوگ ( رضی اللہ عنہم ) جو اس سے پیار کرنے والے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ پر آپ کے صحابہ پر بے شمار رحمتیں اور برکات نازل فرمائے خدا فرما تا تھا کہ مخالفین تمہارے خلاف سازشیں کریں گے مگر تم نے صبر کرنا ہے وہ کہتے تھے کہ اے خدا! کوئی ہمارے خلاف جو مرضی ہے۔سازش کرتا ر ہے ہم تیری راہ میں ثبات قدم دکھائیں گے اور صبر سے کام لیں گے۔اے ہمارے رب! ہم جانتے ہیں کہ تو ہمارے لئے کافی ہے۔تیرے سوا ہمیں کسی اور کی احتیاج نہیں ہے۔ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ بیوقوف ہیں۔یہ سمجھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور انتقام کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ایک اور مکر اور سازش جو مسلمانوں کے خلاف کی گئی۔جو دین کے نام پر جمع ہو کر بقول خود ان بے دینوں کو ہلاک کرنے کی سازش تھی۔قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ