خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۷۰ء کے متعلق بات کر رہا ہوں اور وہ فقرے ایسے ہیں کہ انسان خود نہیں بنا سکتا یعنی اس حالت میں بھی میرے او پر وجد کی کیفیت طاری ہے اور سوائے ایک لفظ کے باقی الفاظ یاد نہیں رہے مجھے اس کا دکھ ہے۔قرآن کریم کی جو آیات ہیں ان کا تو تلاوت کے وقت مجھے پتہ لگ جائے گا اگر چہ میں اس وقت بھولا ہوا ہوں اور وہ آخری پانچ پاروں ہی سے ہیں۔بہر حال میں ان کو کہہ رہا ہوں کہ فلاں سلسلہ جو تھا اس کی خصوصیت اور کامیابی کا راز اس چیز میں تھا یہ مجھے یاد نہیں رہا مفہوم اس کا یاد ہے کہ یہ بات میں نے کہی ہے اور اس کے بعد دوسرے سلسلہ کے متعلق میں نے یہ کہا جو فلاں سلسلہ تھا اس کی خصوصیت اور کامیابی کا راز اس چیز میں تھا ( یہ پہلے سے مختلف تھی) اور پھر میں نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیت اور اس کی کامیابی کا راز ڈسپلن میں ہے یعنی نظم وضبط اور اطاعت۔جماعت احمدیہ کی بنیاد ہی خلافت پر ہے اور خلافت جو ہے اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ کسی نے بہت ہی شاندار عمارت بنانی تھی اس نے اس کی بنیادوں کے نیچے چھ چھ انچ ریت ڈالی۔ریت کے ذرے بڑے کمزور ہوتے ہیں لیکن اس ریت کو کچھ اس طرح باندھا کہ وہ پتھر سے زیادہ مضبوط بنی اور اس ساری تعمیر کا بوجھ اس نے اپنے اوپر اٹھا لیا اسی طرح خلافت جو ہے اسے ریت کے ذرے سمجھ لو کیونکہ حقیقی طور پر خلفائے راشدین کی خلافتوں میں سے ہر خلافت کی نمایاں خصوصیت عاجزی ہے انہوں نے اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھا لیکن اللہ تعالیٰ نے الہی ریت کے ذروں کو اپنی قدرت کی انگلیوں میں کچھ اس طرح پکڑا کہ وہ ساتویں آسمان تک جانے والی اتنی بلند عمارت کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل ہو گئے۔میں خواب میں اس کو کہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیت اور کامیابی کا راز ڈسپلن ہی ہے۔میں انگریزی میں اس سے بات کر رہا ہوں اور پتہ نہیں بعض دفعہ یاد ہی آجا تا ہے (اگر یاد آجائے تو میں اپنے رب کا بڑا ہی ممنون ہوں گا ) میں نے بتایا ہے کہ انگریزی کے یہ فقرے اس قسم کے تھے کہ میری اس کیفیت میں بھی ایک اور کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔بہر حال ہمارے ساتھ تو ہمارا رب اس طرح کا پیار کرتا ہے اس کے بعد اگر ساری دنیا کی