خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 315

خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۵ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء سمجھنے والی دنیا، ہماری ہلاکت کے منصوبے بنانے والی دنیا، ہرقسم کی ایذا پہنچانے کی تیاریاں کرنے والی دنیا کان کھول کر یہ سن لے کہ وہ جو مرضی ہو کر لیں ہمارے دل میں اپنی نفرت اور حقارت پیدا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اس لئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کے دلوں کو محبت اور پیار کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کے لئے پیدا کیا ہے اور ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ ہم اپنی اس مہم اور اس کوشش اور اس منصو بے میں اسی کے فضل سے نہ اپنی کسی خوبی کے نتیجہ میں کامیاب ہوں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے راستے میں روک نہیں بن سکتی یہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں ملیں اور یہ وہ پیش خبریاں اور بشارتیں اور مسرتیں اور خوش خبریاں ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ خدا کی باتیں ہیں انہیں سنبھال کر رکھو اور اپنے صندوقوں میں بند کرلو کہ خدا کی بات ایک دن پوری ہو کر رہے گی اللہ تعالیٰ ہم سے جو اپنی محبت اور پیار کا سلوک کرتا ہے ( میں ان کو کہتا ہوں جو ہمیں کا فرسمجھتے ہیں کہ ) تم اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔جس دن یہ ایک نیا واقعہ ہوا اور اسکے بعد میرے پاس بیسیوں خطوط آئے اور اسی کے متعلق میں اپنے نو جوانوں کو سمجھانے کے لئے آج میں اس موضوع پر بول رہا ہوں اور اس سے پہلے بھی بولتا رہا ہوں کہ تمہیں کس بات کی فکر ہے؟ تم خدا کی گود میں بیٹھے ہوئے ہو۔جس دن یہ واقعہ ہوا ہے ( یعنی اخبار میں آیا ہے واقعہ تو پہلے ہوا ہو گا ) مجھے کچھ پتہ نہیں تھا اس سے دورا تیں پہلے ساری رات بلا مبالغہ اللہ تعالیٰ مجھے دشمنوں کی ناکامی اور نامرادی کی خبریں دیتارہا اور جماعت احمدیہ کی ترقی کے متعلق بتا تارہا اور صبح جب میں اٹھا تو میری طبیعت میں جہاں بشاشت تھی وہاں میں کسی ایسے واقعہ کا انتظار بھی کر رہا تھا کیونکہ دو دن پہلے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے تسلی دے دی ہوئی تھی۔غرض قرآن کریم کی آیات، دوسرے الفاظ ، عربی میں اردو میں انگریزی میں اور ساری رات یہ سلسلہ جاری رہا۔اس خواب میں یا خواب تو نہیں کہنا چاہیے میری زندگی کا تو یہ پہلا تجربہ تھا لیکن ساری رات اسی طرح ہوتا رہا کچھ دیر کے لئے دماغ غائب ہوجاتا پھر وہ سلسلہ شروع ہو جاتا تھا اور پورا بیدار ہوجا تا تھا۔میں کسی سے باتیں کر رہا ہوں اور انگریزی میں بول رہا ہوں اور میں تین سلسلوں