خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 314
خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۴ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء اور مسرت کے لئے دعائیں کرنی شروع کر دیتے ہیں مثلاً ایک شخص آج یا آج سے اسی سال پہلے یا آنے والی کل ( یہ تو چلے گا سلسلہ ) کفر کا فتویٰ دیتا ہے تو اگر آپ سوچیں اور میں نے سوچا ہے اور جو میں بیان کروں گا اسی کو حقیقت پایا۔آپ بھی سوچیں تو آپ کو بھی یہی حقیقت سمجھ آئے گی کہ سب سے سخت سزا جو ہم ایسے کا فر کہنے والوں کو دے سکتے ہیں وہ وہ سزا ہے جو ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کو لی تھی۔آپ ان کے لئے دعا کریں کہ وہ احمدی ہو جائیں جب وہ احمدی ہو جائیں گے تو ان میں سے ہر ایک کا دل ساری عمر کڑھتا رہے گا کہ میں کتنا احمق تھا کہ ایک وقت میں اس قسم کا فتویٰ دے دیا یا کوئی فیصلہ کر دیا یا اعلان کر دیا۔پس وہ آپ کو کا فرکہیں آپ دعا کریں کہ اُن میں سے ہر ایک مومن ہو جائے۔حضرت خالد بن ولید نے یرموک کے موقعے پر عکرمہ اور ان کے ایسے ہی ساتھیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہمیشہ جنگ کرتے رہے تھے یہ مشورہ دیا تھا کہ تمہارے چہروں پر ایسے داغ ہیں جو انتہائی قربانی کے بغیر ڈھل نہیں سکتے آج موقعہ ہے اپنے خونوں سے اپنے چہروں کے داغ دھو ڈالو۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ جو بعد میں آنے والے تھے اور ساری عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور کی جنگوں میں آپ کے خلاف لڑتے رہے تھے اس وقت دوسو کے قریب تھے وہ سارے کے سارے دشمن کی فوج میں گھس گئے کیونکہ حضرت خالد بن ولیڈ نے ان سے کہا تھا کہ میں اپنی فوج کو حکم نہیں دوں گا تم نمایاں ہو جاؤ اور دشمن کی فوج پر حملہ کر دو حالانکہ دشمن کی تعداد بعض مورخین کے نزدیک اڑھائی لاکھ تھی یہ دو سو اپنے چہروں کے داغ دھونے کے لئے اس فوج کے اندر گھس گئے اور اپنے وعدے کو سچا ثابت کر دکھایا سارے کے سارے شہید ہو گئے ان میں سے صرف ایک زخمی ہونے کی حالت میں واپس آئے اور بعد میں انہی زخموں سے وہ بھی فوت ہوگئے ایسے لوگوں کو جو آج اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں میں یہ کہوں گا کہ اگر تمہاری قسمت میں نیکی لکھی ہوئی ہے تو تمہیں خدا کی رضا کی جنت کے حصول کے لئے عکرمہ اور اس کے ساتھیوں جیسی قربانی دینی پڑے گی اور ہم تمہارے لئے دعا کرتے ہیں ہمارے دل میں کسی کی دشمنی کسی کی حقارت اور کسی سے نفرت نہیں ہے اور ہمیں گالیاں دینے والی دنیا ، ہمیں کافر کہنے والی دنیا، ہمیں راندہ درگاہ