خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 311
خطبات ناصر جلد سوم فضلوں کے وارث بنیں گے۔۳۱۱ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بڑے ابتدائی زمانہ میں یہ بشارتیں ملی تھیں آپ فرماتے ہیں کہ جب میں اکیلا تھا اور کوئی شخص میرے سلسلہ بیعت میں ابھی داخل نہیں ہوا تھا گو یہ صیح ہے کہ میرے ساتھ چند دوست تھے لیکن بیعت ابھی کسی نے نہیں کی تھی اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے کہا تھا میں تجھے کامیاب کروں گا اور دشمن تیرے اوپر غالب نہیں آسکے گا اور اس وقت جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا اور بڑے بڑے علماء ظاہر نے اکٹھے ہو کر سر جوڑا اور ہلاکت کا ایک یہ منصو بہ بھی تیار کیا کہ دوسو چوٹی کے علماء ظاہر کے دستخطوں سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگا یا اور اس تکفیر بازی کے نعروں میں پہلے احمدی نے بیعت کی۔آپ فرماتے ہیں کہ جب میرے خلاف یہ شور بلند ہوا اس وقت تک بیعت کسی نے نہیں کی ہوئی تھی پس کفر کا فتویٰ اور تکفیر کا نعرہ پہلے لگا اور وہ پہلا شخص بعد میں ہوا جس نے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرتے ہوئے اس کی رحمتوں کے چشموں سے جسمانی اور روحانی سیری حاصل کی۔آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت میرے قتل کرنے کے منصوبے بنائے گئے مجھے ہلاک کرنے کی سکیمیں تیار کی گئیں عوام کو میرے خلاف بھڑ کا یا گیا اور اعلان کیا گیا کہ جو شخص مجھے قتل کرے گا وہ بڑے ثواب کا مستحق ہوگا وغیرہ غرض سارے جتن کئے ہر قسم کی تدبیر کر لی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان نعروں کے درمیان وہ اکیلا اک سے ہزار نہیں بلکہ اک سے کروڑ ہونے تک پہنچ گیا۔یہ ہمارا پس منظر ہے نئے نعرے، نئے فتوے، نئے بازار تکفیر سجانے سے ہمیں کون ڈرا سکتا ہے؟ ہم نے اپنے بزرگوں کی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے جلووں کو مشاہدہ کیا اور ہم نے اپنی عاجزانہ زندگیوں میں بھی اس کی قدرت کے جلووں کا نظارہ کیا دنیا کی کوئی دھمکی دنیا کا کوئی شور، دنیا کا کوئی منصوبہ، دنیا کی کوئی چالا کی ہمیں مرعوب نہیں کر سکتی۔اس بات کو ہم تسلیم کرتے ہیں اور اس کے اظہار میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ جہاں تک دنیوی سہاروں کا تعلق ہے ہم بے سہارا ہیں اور ہمارے پاس کوئی سہارا نہیں ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دامن کو پکڑے ہوئے ہیں اور وہی ہمارا سہارا ہے اور اس سے بہتر نہ کوئی سہارا ہے نہ کسی