خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۰ خطبه جمعه ۲۸ /اگست ۱۹۷۰ء وعدہ دیا گیا ہے لیکن اس بشارت کے ساتھ کہ وہاں جو شرط لگائی تھی یعنی اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ کی۔جماعت احمدیہ کا بڑا حصہ اس شرط کو پورا کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فرمایا گیا کہ شرط انہیں میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تمہاری جماعت ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گی اور میری بشارتوں کی وارث ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا اللهُ يُعْلِيْنَا وَلَا نُعلى اللہ ہم کو غالب کرے گا اور ہم پر کوئی غالب نہیں آئے گا قرآن کریم کی شرط تو نہیں مٹائی جاسکتی۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو اِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِینَ کی شرط پوری ہو رہی تھی مگر پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مسلمانوں نے اس شرط کو پورا نہیں کیا اور وہ بشارتوں کے وارث نہیں بنے۔اللہ تعالیٰ نے اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا کہ تمہیں جو جماعت دی جارہی ہے وہ اس شرط کو پورا کرنے والی ہے اس واسطے یہ اعلان کر دو کہ اللهُ يُعْلِيْنَا وَلَا نُعْلى اللہ تعالیٰ ہمیں غالب کرے گا اور دنیا کی کوئی طاقت ہم پر غالب نہیں آسکے گی۔خدا کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ یعنی جماعت احمدیہ کی اکثریت ویسے الہی سلسلوں میں کمزور ایمان والے بھی ہوتے ہیں اور منافق بھی ہوتے ہیں لیکن جماعت احمدیہ کی اکثریت اس شرط کو پورا کرنے والی ہوگی اور دنیا میں یہ اعلان کرنے والی ہوگی۔"اللهُ يُعْلِيْنَا وَلَا نُعلی“ اللہ تعالیٰ ہمیں غالب کرے گا اور ہم پر کوئی غالب نہیں آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو اس قدر بشارتیں دی ہیں آپ نے جماعت کی ترقیات کا اس دھڑلے کے ساتھ اعلان کیا ہے آپ نے ان منافقوں اور کمزور ایمان والوں کو بھی ڈرایا ہے لیکن بحیثیت جماعت کے آپ نے جماعت کو یہ تسلی بھی دی ہے کہ عاجزانہ راہوں کو تم اختیار کرتے جانا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے تم وارث ہوتے چلے جاؤ گے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی ہے کہ آپ اور آپ کے نائبین اور خلفاء جماعت کی اس رنگ میں تربیت کرنے کے قابل ہوں گے کہ جماعت کے لوگ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ شرط کو پورا کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے