خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 309
خطبات ناصر جلد سوم ۳۰۹ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء طرح خاوند کو یہ یقین ہے کہ اس کی ایک بیوی بھی ہے اور جس طرح بیوی اس یقین پر قائم ہوتی ہے کہ اس کا ایک خاوند بھی ہے ہر ایک احمدی کو اس سے بھی زیادہ یقین پر قائم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو غیب کے متعلق وعدے کئے ہیں وہ انشاء اللہ ضرور پورے ہو نگے ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے میں روک نہیں بن سکتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں صرف یہ نہیں فرمایا کہ اپنے ایمانوں کو پختہ کر و الہی بشارتوں کے متعلق یہ یقین رکھو کہ وہ پوری ہوں گی کیونکہ آسمان اور زمین کے خدا نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا ہے بلکہ آپ کے دل میں الہی وعدوں پر بھی نہایت پختہ یقین تھا اور آپ اپنی جماعت میں بھی اسی یقین کو پختہ کرنا چاہتے تھے صرف یہ نہیں کہا کہ دشمن ایذا دہی کرتا ہے گندہ دہنی سے کام لیتا ہے کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے ہلاکت کے منصوبے بناتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوگا بلکہ مخالف کو مخاطب کر کے یہ بھی کہا کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ میرے خلاف زور لگاؤ اور اتنا زور لگاؤ کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو اور پھر دیکھو کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ وہی نکلے گا جو میرے خدا نے مجھے بتایا ہے وہ نتیجہ نہیں نکلے گا جو تمہارے منصوبے تمہارے دل میں خواہش پیدا کریں گے۔پس غیب کا تعلق مستقبل سے بھی ہے اور اس وقت اسی کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں مستقبل کے متعلق جو غیب ہے وہ پھر ہزاروں شاخوں میں آگے بٹا ہوا اور تقسیم ہے لیکن مستقبل کے جس غیب کا جماعت احمدیہ سے تعلق ہے وہ وہ غیب ہے جو بشارتوں کے رنگ میں ہمیں دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی وعدہ کو دہرایا ہے نئے وعدے نہیں اصل وعدے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہم تک پہنچائے گئے ہیں لیکن نئے حالات میں جن نئی شکلوں میں انہوں نے ظاہر ہونا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں بتائے گئے ہیں۔قرآن کریم میں یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ "آنْتُمُ الْأَعْلَونَ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ “ (ال عمران : ۱۴۰) کہ ایمان کے نقاضوں کو پورا کرو گے غالب آؤ گے۔ایمان کے تقاضوں کو پورا نہیں کرو گے ملعونی قومیں بھی تم پر غالب آجایا کریں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قرآن کریم کا یہی