خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 20
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء پشاور میں ہمارا ایک ذہین طالب علم یا مشرقی پاکستان میں ہمارا ایک ذہین طالب علم اپنے گھر کے حالات کے لحاظ سے باوجود انتہائی طور پر ذہین ہونے کے ترقی نہیں کر سکتا تو وہ مرکز کی طرف رجوع کرتا ہے اور مرکز کی طرف سے اس کی تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے اور اس طرح سارے خاندان کی خوشحالی کا انتظام ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مرکز میں رہنے والو! تمہیں اللہ تعالیٰ نے کتنا نوازا ہے کہ اس نے تمہیں امن عطا کیا اور دوسروں کے امن کا ذریعہ تمہیں بنایا اور وہ تمہیں آسمانی نشانات دکھاتا ہے مرکز میں رہنے والے (اگر ان کی آنکھیں ہوں ) تو سب سے زیادہ نشانات دیکھتے ہیں اور إِلا مَا شَاءَ اللہ ان کی آنکھیں ہیں۔ہاں ایک منافق کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا بہر حال مرکز میں رہنے والے بہت سی تائیدات سماویہ ملاحظہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسروں کو نشانات سماویہ دکھانے کا بھی ذریعہ بنایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے چاروں طرف رزق کے سامان پیدا کر دیئے ہیں میں نے تمہاری دنیوی اور اخروی خوشحالی کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور تمہاری وجہ سے اور تمہاری قربانیوں اور ایثار کے نتیجہ میں ہم دوسروں کے لئے بھی خوشحالی کا سامان پیدا کرتے ہیں غرض تم پر مرکز میں رہنے کی وجہ سے بہت زیادہ فضل ہوتے ہیں اور اس نسبت سے تمہاری ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ ہیں۔پس تم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور اس بات کا خیال رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور نفرت اور بیزاری کی صفات کے بعض جلووں میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو بظاہر ظالم نہیں ہوتے لیکن اس ظلم کی جسے دنیا کی آنکھ نہیں دیکھتی آخری ذمہ داری ان لوگوں پر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ جو وووو علام الغیوب ہے بظاہر ظالم نظر آنے والے کی نسبت حقیقتا ظالم بنانے والے سے زیادہ نفرت کرتا ہے۔غرض تم دوسروں کو ظالم نہ بناؤ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور راعی کی حیثیت سے اپنے ماحول میں ایسے حالات پیدا کرو کہ وہ جو تمہاری رعیت ہیں وہ پختگی ایمان اور اعمال صالحہ پر اچھی طرح قائم رہیں اور وہ جماعت کی ذمہ داری اور مرکز سلسلہ کی ذمہ داری کو نباہنے والے ہوں ورنہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے غصہ کی لپیٹ میں صرف وہی نہیں آئیں گے بلکہ اُن کے ساتھ تم جو حقیقتاً ظالم ہو گوتم بظاہر ظالم نظر نہیں آتے ) زیادہ اس عذاب اور اس سزا کی لپیٹ میں آؤ گے اور اللہ تعالیٰ کا