خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 21 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 21

خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۰ء غصہ تم پر زیادہ بھڑ کے گا۔پس اہل ربوہ کو اپنی اونگھ اور نیند سے بیدار ہو جانا چاہیے۔کوئی ایسی ماں اور کوئی ایسا باپ یہاں نہیں رہ سکتا جو اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی ذمہ داری اُٹھانے کے لئے تیار نہیں کیونکہ ہم اس ماحول کو گندہ اور ناپاک نہیں دیکھنا چاہتے۔ظاہری صفائی کے متعلق تو ہم یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس دُنیوی اموال نہیں اس لئے ظاہری صفائی اس قدر نہیں ہوسکتی جتنی ہونی چاہیے گو یہ خیال بھی بہت حد تک خام ہے لیکن بہر حال ہم اپنے دلوں کو یہ کہہ کر تستی دے لیا کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ظاہری اموال نہیں ہیں اس لئے ہم ظاہری صفائی کو اس حد تک نہیں رکھ سکتے گو ہمیں اس طرف بھی توجہ کرنی چاہیے لیکن باطنی صفائی کے متعلق نہ تو کوئی بہانہ ہمارے پاس ہے اور نہ کوئی سمجھدار شخص اس بہانہ کو قبول کرے گا اور میں تو یہی کہوں گا کہ تم ظاہری صفائی کا بھی اتنا خیال رکھو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خواہش اور ہمارے رب کریم کا کوئی ارشاد ہمیں کبھی نہ بھولے اور جس قدر ممکن ہو ہم ظاہری صفائی سے تعلق رکھنے والے تمام احکام کو بجالانے والے ہوں اور وہ بیسیوں احکام ہیں لیکن اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم باطنی صفائی کی طرف توجہ کرو۔اللہ تعالیٰ نے ایک نظام کو قائم کیا ہے اور اس لئے قائم کیا ہے کہ ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرے اس لئے قائم کیا ہے کہ تمام بنی نوع انسان کے دلوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت قائم اور پختہ کرے اور اس نے ہم پر ذمہ داری عائد کی ہے کہ اگر ہمارے اس ماحول میں یعنی مرکزی ماحول میں کسی منافق کا فتنہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اُس پر گرفت ہونی چاہیے۔تو ہم اس کو پکڑیں گے اگر کوئی کمزور ایمان والا یا کوئی منافق طبیعت والا یہ سمجھتا ہو کہ میں آسانی سے نظام سلسلہ کی بغاوت بھی کر سکتا ہوں اور میں کسی کی گرفت میں بھی نہیں آؤں گا تو وہ بڑا بیوقوف ہے کیونکہ سب سے بڑی گرفت تو اللہ تعالیٰ کی ہے اس سے وہ بچ نہیں سکتا جو مرضی ہے وہ کرے خواہ وہ دنیا اور شیطان کی ساری طاقتیں اپنے لئے جمع کرے وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کیسے بچ سکتا ہے پھر اس کے بندے جنہیں اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں مخاطب کرتا ہے کہ مجھ سے ڈرو اور دنیا کی کسی اور چیز سے نہ ڈرو وہ کسی اور سے کیسے ڈریں گے اور ان کی گرفت سے اس قسم کا آدمی کیسے بچ جائے گا