خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 222

خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۲ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کئے جائیں گے چنانچہ اس کا اعلان کر دیا گیا لوگوں نے شور مچا دیا کہ حکومت کا یہ قانون احمد یہ سکولوں پر لاگو نہ کیا جائے چنانچہ حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہمارا یہ قانون احمد یہ سکولوں پر نہیں لگے گا اور حد مقرر ہوئی ہے تقریباً ساڑھے تین سو کی اور فری ٹاؤن کے ہیڈ ماسٹر پر زور دے رہے ہیں کہ اس Admission ( داخلہ) کے وقت جو غالباً یہاں کی طرح ستمبر اکتوبر میں ہوتی ہے ساڑھے چھ سولڑ کا داخل کر دور نہ لوگ ہمیں تنگ کریں گے اور اس کے لئے انتظام کرو۔سٹاف جتنا چاہیے وہ لو اور کمرے بنوانے کی ضرورت ہو تو کمرے بنواؤ۔پیسے تو وہاں کی حکومت ہی دیتی ہے یا جو ہم Save( بچت) کرتے ہیں وہ وہاں لگا دیتے ہیں لیکن اس کا بہت بڑا بار جو ہے وہ حکومت خود اٹھا لیتی ہے یعنی ہمارا اپنا سکول ہے ہم وہاں تبلیغ کر رہے ہیں اور وہاں اسلام کے غلبہ کے لئے نوجوان نسل کو تیاری کروا ر ہے ہیں خرچ حکومت دے رہی ہے اور پھر ساتھ ممنون بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ہمارے ماڈل سکول ہیں ایک پیرا ماؤنٹ چیف ( یعنی علاقے کا رئیس آپ سمجھ لیں ) کا بچہ پڑھتا نہیں ہوگا اسے کہا کہ اگر تم مڈل میں اچھے نمبر لے کر پاس ہو گئے تو تمہیں ہائر سیکنڈری سکول میں داخل کروا دوں گا اسی سال کی بات ہے کہ اس نے امتحان دیا ہوا ہے پتہ نہیں نتیجہ نکلا ہے یا نہیں ایک دن وہ اپنے باپ سے کہنے لگا کہ ابا آپ کو یاد ہے آپ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ اگر میں اچھے نمبر لے کر پاس ہو گیا تو آپ مجھے ہائر سکینڈری سکول میں تعلیم دلوائیں گے انہوں نے کہا ہاں مجھے یاد ہے کہنے لگا کہ پھر یا درکھیں میں احمدیہ میں داخل ہوں گا اور کسی سکول میں داخل نہیں ہوں گا وہاں ہمارے سکول احمد یہ سکول نہیں کہلاتے بلکہ عام محاورے کے لحاظ۔صرف احمد یہ “ کہلاتے ہیں۔اس کا یہ کہنا کہ میں احمدیہ میں داخل ہوں گا کسی اور سکول میں داخل نہیں ہونگا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے سکولوں کی بڑی مقبولیت ہے اگلی نسل کے دلوں میں بھی اور بڑوں کے دلوں میں بھی میں نے بتایا ہے کہ وزراء سفارشیں لے کر جاتے ہیں اور یہ تو ان کے معاشرہ کے حسین ہونے کی دلیل ہے یعنی ایک وزیر اور سکول کے ایک پرنسپل میں کوئی فرق نہیں یہاں تو میرے خیال میں کسی وزیر صاحب کے پاس جانا آسان نہیں اب تو مارشل لا ء ہے سول حکومت آئے گی تو دیکھیں گے وہ کیا کرتی ہے؟ پہلی سول حکومتیں تو یہی کیا کرتی تھیں کہ وہ سکول کے ہیڈ ما سٹرکو