خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 223
خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۳ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء ملاقات کا وقت تو کیا بڑے اچھے اچھے کالجوں کے پرنسپل کو بھی ملنے کے لئے کئی دن دھکے کھانے پڑتے تھے۔یہ ہماری تصویر ہے اور ان کی تصویر یہ ہے کہ وزیر سکول میں آ رہا ہے اور سفارش لے کر آرہا ہے کہ لڑکے کو ضرور داخل کرنا ہے اور ایک دو نہیں بلکہ ایک ایک دن میں چھ چھ وزیر آرہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو کوئی جھجک نہیں۔بڑے سادہ معاشرہ میں زندگی کے دن گزار ہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مبارک کرے اور بھی زیادہ سادگی پیدا کرے۔وہاں کبھی بھی بڑے اور چھوٹے کا فرق پیدا نہ ہو۔غرض ان ملکوں میں حکومت کو سکولوں کی طرف بڑی توجہ رہتی ہے میں نے گیمبیا میں ان کے معاشرہ کے لحاظ سے اپنے ایک دوست سے کہا کہ یہاں کے وزیر تعلیم جو وزیر صحت بھی ہیں انہیں میرے پاس لے کر آؤ، میں نے ان سے باتیں کرنی ہیں خیر وہ آگئے میں ان سے کہوں کہ میں نے پہلے یہاں میڈیکل سنٹر ز کھولنے ہیں کیونکہ میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ یہاں مجھے آمد کا ایک ذریعہ بنادینا چاہیے لیکن وہ یہ کہیں کہ ہمارا ملک تعلیم میں بہت پیچھے ہے آپ یہاں پہلے ہائی سکول کھولیں اور ہائی سکول کھولنے پر پہلے سال چار پانچ ہزار پاؤنڈ ا اپنے پاس سے خرچ کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد حکومت مدد دینا شروع کر دیتی ہے میں نے انہیں کہا دیکھیں ! آپ میرے ساتھ تعاون کریں اور جیسا کہ میں نے پروگرام بنایا ہے چار نئے میڈیکل سنٹرز یہاں کھلنے دیں اور اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ پورا تعاون کریں اور میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے ہمیں یہ سہولتیں دے دیں یعنی زمین اور ڈاکٹروں کے لئے انٹری پرمٹ تو ہم انشاء اللہ ہر سال ایک نیا ہائی سکول کھولتے چلے جائیں گے۔گیمبیا تعلیم میں اتنا پیچھے ہے کہ جب میں وہاں گیا تو مجھے خیال آیا کہ میں ان سے کہوں کہ وہاں یونیورسٹی نہیں تم یو نیورسٹی بناؤ نصف نصف بار ہم تقسیم کرلیں گے وزیر تعلیم ہنس پڑے کہنے لگے کہ ہمارے ملک کی ٹوٹل پاپولیشن میں سے دسویں جماعت کے طلباء کی تعداد صرف ایک ہزار ہے سارے ملک میں سے ایک ہزار لٹر کا دسویں جماعت کے امتحان میں بیٹھتا ہے ہم یو نیورسٹی کس برتے پر بنا سکتے ہیں اس لئے پہلے آپ ہائی سکول کھول دیں میں نے ان سے کہا کہ وہ تو انشاء اللہ کھل جائیں گے خدا کرے کہ ۱۰،۸ سال کے بعد وہ ملک اس قابل ہو جائے کہ وہاں ایک یو نیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہو اور ہمیں ۵۰ فیصدی کا بوجھ حکومت کے