خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 197 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 197

خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۷ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء کہلا سکتے۔آپ نے فرمایا کہ نجات کا صحیح مفہوم ابدی خوشحالی اور دائمی مسرت ہے۔یہ ابدی خوشحالی صرف اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب انسان کا اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا ہو جائے اور یہ زندہ تعلق پیدا نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی معرفت اور شناخت حاصل نہ ہو کیونکہ جس شخص نے خدا تعالیٰ کی صفات کی شناخت ہی حاصل نہیں کی روحانیت میں اس کا اگلا قدم اٹھ ہی نہیں سکتا اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی صفات کی شناخت کر لی ، وہ شناخت جو انسان کو سنکھیا کے زہر کی ہوتی ہے اگر کوئی شخص اس کے سامنے اس کی قاتل ڈوز لا کر رکھ دے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں اسے کھاؤں گا تو مر جاؤں گا گویا سنکھیا کی اسے شناخت ہوگئی اور روہ اسے نہیں کھائے گا سوائے اس مجنون کے جسکی بات ہم نہیں کر رہے یا جو خود کشی کر رہا ہے۔پس آپ نے فرمایا کہ جتنی شناخت ایک شخص کو زہر یعنی سم قاتل کی ہوتی ہے اتنی شناخت بلکہ اس سے بڑھ کر شناخت اللہ تعالیٰ کی صفات کی ہونی چاہیے۔جتنی شناخت ایک نہتے انسان کو شیر کی طاقت کی ہے اگر اسے پتہ لگے کہ اس راستے پر شیر دیکھا گیا ہے اور وہ ایک دو آدمیوں کو پہلے مار چکا ہے تو کوئی نہتا شخص وہاں سے کبھی نہیں گزرے گا۔پس یہ شناخت ہی کا نتیجہ ہے کہ اسے ایک معرفت عطا ہوئی کہ یہ راستہ خطرناک ہے۔جتنی شناخت کسی کو ایک زہریلے سانپ کے زہر کی ہے اگر اسے پتہ ہو کہ اس جگہ سانپ ہے تو وہ اس کے سوراخ میں کبھی اُنگلی نہیں ڈالے گا اگر اس قسم کی شناخت یا اس سے بڑھ کر شناخت اللہ تعالیٰ کی صفات کی ہے تو یہ ایک صحیح اور حقیقی اور کامل معرفت ہے لیکن اگر ایسی نہیں تو پھر ایک وہم ہے ایک دعوی بلا دلیل ہے۔پس سچی خوشحالی اور دائمی مسرت کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت ضروری ہے۔جب ہر ایک کو اپنی بساط اور اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی اس معرفت کے دو نتیجے نکلتے ہیں ایک تو چونکہ وہ نہایت عظمت اور جلال والی ذات ہے اس کی عظمت اور جلال کو دیکھ کر اور اس کے ساتھ ہی وہ بڑی حسین ذات ہے کیونکہ وہ سارے حسنوں کا منبع اور سر چشمہ ہے ساری دنیا میں جہاں بھی حسن نظر آتا ہے وہ اسی کے حسن کا پر تو ہے اس کے حسن کا مشاہدہ کر کے اس کی شناخت پا کر یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ یہ عظیم ہستی جس نے مجھے پیدا کیا اور قومی دیئے وہ کہیں مجھ سے