خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 191 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 191

خطبات ناصر جلد سوم ١٩١ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء کے حسن واحسان کا ذاتی مشاہدہ کر کے آپ سے انتہائی محبت کرنے والے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے۔ہم نے بھی وہاں اس قسم کے بہت نظارے دیکھے ہیں۔بہر حال مذہبی نقطۂ نگاہ سے دنیا کا جو نقشہ ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں تو ان اقوام نے اعلان کر دیا کہ وہ عیسائی نہیں وہاں تو دہریت اور الحاد کا زور ہے۔یہ ہمارے لئے ایک علیحدہ محاذ ہے۔اس کے متعلق میں کسی اور خطبہ میں بیان کروں گا دنیا کا ایک علاقہ اور یہ بہت بڑا علاقہ ہے اس میں ہمیں یا تو نام کے عیسائی نظر آتے ہیں یا دہر یہ ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم عیسائی نہیں ہیں لیکن عیسائیت کا نام ان ملکوں میں ہے اور جہاں عیسائیت کا کافی Hold ( ہولڈ ) ہے وہ پین اور جنوبی امریکہ کے علاوہ افریقہ کا برِ اعظم ہے جہاں اسلام اور عیسائیت کے درمیان جنگ لڑی جا رہی ہے۔اگر دنیا کا یہ نقشہ صحیح ہو اور میرے نزدیک صحیح ہے تو اس لحاظ سے جماعت احمد یہ پر یہ زبر دست ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ اس محاذ پر عیسائیوں کو شکست دے۔وہاں افریقہ میں بھی عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ ہمارے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ پہلے شہروں اور قصبوں میں پڑھے لکھے لوگوں میں ان کی تبلیغ کا بڑا زور تھا لیکن جب سے ہم آئے ہیں یہ اب Bush (بش ) میں چلے گئے ہیں وہ دوست اپنی طرف سے تو یہ کہ رہے تھے کہ اب ہم کیا کریں؟ میں نے انہیں فوراً کہا Follow them to the Bush تم بھی Bush میں جا کر ان کا پیچھا کرو انہیں یہاں بھی ٹکنے نہیں دینا۔عیسائیت اسلام کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔یہ صحیح ہے لیکن یہ افریقہ کے معاشرہ پر اثر انداز نہیں ہوئی۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔ابھی آٹھ دس دن ہوئے رپورٹ آئی ہے کہ ہمارے چلے آنے کے بعد کماسی میں ایک بہت بڑا عیسائی پیراماؤنٹ چیف مر گیا وہ خود عیسائی اور اس کے حلقہ اثر میں ہزاروں کی تعداد میں عیسائی لیکن اس پیرا ماؤنٹ چیف کے مرنے پر جس طرح بد مذہب والے یعنی مشرک دفن کیا کرتے تھے وہی رسوم شروع ہو گئیں۔مرنے والا بھی عیسائی اس کے علاقے میں اس کے ماتحت جو تھے ان میں سے بڑی بھاری اکثریت عیسائیوں کی لیکن رسوم