خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 192 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 192

خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۲ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء جاہلیت کی اور ان کے مطابق اسے دفنایا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ عیسائیت نے لیبل لگا دیا ہے لیکن معاشرہ میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی۔اس کے مقابلے میں ( دنیا ویسے آگے نکل گئی ہے ہمیں وہی آواز پیاری ہے جو حضرت بلال کی تھی) ہزاروں کی تعداد میں ہم نے عیسائیوں میں سے بھی اور مشرکوں میں سے بھی مسلمان بنائے ہیں اور ان کے سینے اللہ کے نور سے منور ہیں۔وہ اَشْهَدُ اَنْ لا إلة “ کہنے والے نہیں بلکہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ “ کہنے والے ہیں یعنی ان کا عربی کا تلفظ بھی صحیح ہے۔وہ عربی کے ساتھ تعلق رکھنے میں بھی جنونی ہیں۔احمدیت اور اسلام سے انہیں جو پیار ہے وہ تو ہے ہی لیکن عربی زبان سے بھی وہ عشق رکھتے ہیں۔انہیں عربی بولنے کا بڑا شوق ہے چنانچہ وہاں کئی علاقوں میں عربی بولی جاتی ہے۔کماسی سے قریباً دواڑ ہائی سومیل ڈور گھانا کے بارڈر پر واقع ہماری وا کی جماعتیں ہیں۔کچھ وقت کم تھا کچھ وہاں کے حالات مثلاً سڑکوں اور سفر کی دوسری سہولتوں کا علم نہیں تھا اور پھر Briefing ( بریفنگ ) ناقص تھی چنانچہ ہمارا پروگرام یہ طے پایا کہ کماسی سے صبح ٹیچی مان جو ستر میل کے فاصلے پر تھا وہاں جائیں گے اور پھر واپس آجائیں گے۔کماسی میں وآ کے دوسو نمائندے آگئے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہاں ہماری کتنی جماعتیں ہوں گی یعنی مختلف جماعتوں کے دوسو نمائندے اکٹھے ہو کر آگئے اور مشکل یہ پیدا ہوگئی کہ ان کی اپنی لوکل زبان تھی جو کماسی کی زبان سے بالکل مختلف تھی اگر میری تقریر کا کماسی کی زبان میں ر ترجمہ ہوتا تو وہ بالکل سمجھ ہی نہیں سکتے تھے۔چنانچہ میں نے دوستوں سے مشورہ کیا۔کہنے لگے کہ اگر آپ انگریزی میں بولیں گے تو ان میں سے ۵، ۱۰ فیصد سمجھ جائیں گے لیکن ۹۰ فیصد بالکل نہیں سمجھیں گے اور پھر انگریزی تقریر کی صورت میں ان کی لوکل زبان میں ترجمہ کرنے والا بھی کوئی نہیں لیکن اگر آپ عربی میں بولیں تو یہ انگریزی سے زیادہ عربی سمجھ جائینگے۔ہماری وہاں کی جماعتوں کے ایک پریذیڈنٹ بھی اس وفد میں شامل تھے وہ عربی بڑی اچھی جانتے تھے وہ کہنے لگے کہ میں آپ کی عربی تقریر کا اپنی لوکل زبان میں ترجمہ کر دوں گا چنانچہ وہاں مجھے مختصراً عربی میں تقریر کرنی پڑی۔میں آپ کو یہ بتارہا ہوں کہ انہیں عربی سے بڑا پیار ہے اس علاقے کے لوگ ہماری طرح کی پگڑیاں باندھتے ہیں ہماری نقل میں نہیں بلکہ ویسے ہی ان کا پرانا رواج ہے۔گلاہ