خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 129
خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۹ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء سے آپ بھی دعائیں کریں میں بھی دعائیں کرتا رہتا ہوں مخالفت کی یہ آگ ہمیں جلانے کے بجائے ہماری کامیابیوں پر فتح کے ہار گوندھے اور یہ آگ خوشیاں منانے والی ہو اور اس آگ میں سے ہمارے اوپر آگ کے شعلوں کے بجائے پھولوں کی پتیاں برسیں یہی ہم سے وعدہ ہے اگر وہ پورا ہوا ہے تو یہ بھی پورا ہوتا چلا جائے گا۔پھر جب ہم سیرالیون میں آئے تو اور زیادہ جرات تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تھا کہ کرو خرچ ، میں اچھے نتائج نکالوں گا چنانچہ وہاں پروگرام بنائے پھر میں لندن آیا تو میں نے جماعت کے دوستوں سے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء معلوم ہوا ہے کہ ان چھ افریقی ممالک میں تم کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ خرچ کر دو ( ویسے یہ پوری سکیم میرے ذہن میں ہے کہ کس کس رنگ میں کام چلانا ہے ) پس یہ ایک لاکھ پاؤنڈ کی رقم کم سے کم ہے اور اس سلسلہ میں انگلستان کی جماعتوں میں سے مجھے دوسوا ایسے مخلص آدمی چاہئیں جو دو سو پاؤنڈ فی کس کے حساب سے دیں اور دوسو ایسے مخلصین جو ایک سو پاؤنڈ فی کس کے حساب سے دیں اور باقی جو ہیں وہ ۳۶ پاؤنڈ دیں ان میں سے بارہ پاؤنڈ (ایک پاؤنڈ ایک مہینے کے لحاظ سے فوری طور پر دے دیں میں نے انہیں کہا کہ قبل اس کے کہ میں انگلستان چھوڑوں اس مد میں دس ہزار پاؤنڈ جمع ہونے چاہئیں اور اس وقت انگلستان سے روانگی میں بارہ دن باقی تھے چنانچہ دوستوں کے درمیان میں صرف دو گھنٹے بیٹھا ایک جمعہ کے بعد اور دوسرے اتوار کے روز جس میں اور نئے آدمی بھی آئے ہوئے تھے اور ان دو گھنٹوں میں ۲۸ ہزار پاؤنڈ کے وعدے ہو گئے تھے اور ۱۳ اور ۴ ہزار پاؤنڈ کے درمیان نقد جمع ہو گئے تھے میں نے پھر اپنے سامنے نیا اکاؤنٹ کھلوایا اور اس کا نام ” نصرت جہاں ریز روفنڈ“ رکھا ہے یہ اکاؤنٹ وہیں رہے گا وہیں اس میں رقم جمع ہوگی غرض نصرت جہاں ریزرو فنڈ“ کے نام سے ایک علیحدہ اکاؤنٹ کھلوایا اور اس میں رقم جمع کروائی کیونکہ اس سے پہلے جو رقمیں آرہی تھیں وہ مسجد فنڈ کے اکاؤنٹ میں جارہی تھیں۔میں نے جمعہ کے خطبہ میں انہیں کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہم یہ رقم خرچ کریں اور ہسپتالوں