خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 130

خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۰ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء اور سکولوں کے لئے جتنے ڈاکٹر اور ٹیچر چاہئیں وہاں مہیا کریں میں نے دوستوں سے کہا کہ مجھے یہ خوف نہیں ہے کہ یہ رقم آئے گی یا نہیں یا آئے گی تو کیسے آئے گی یہ مجھے یقین ہے کہ ضرور آئے گی اور نہ یہ خوف ہے کہ کام کرنے کے لئے آدمی ملیں گے یا نہیں ملیں گے یہ ضرور ملیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ کام کرو۔خدا کہتا ہے تو یہ اس کا کام ہے لیکن جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ محض خدا کے حضور قربانی دے دینا کسی کام نہیں آتا جب تک اللہ تعالیٰ اس قربانی کو قبول نہ کر لے۔لاکھوں لاکھ قربانیاں حضرت آدم کے زمانے سے اس وقت تک روکی گئیں جن کا ذکر مختلف احادیث نبوی میں موجود ہے پس مجھے یہ فکر ہے اور تمہیں بھی یہ فکر کرنی چاہیے اس لئے دعائیں کرو اور کرتے رہو کہ اے خدا! ہم تیرے عاجز بندے تیرے حضور یہ حقیر قربانیاں پیش کر رہے ہیں تو اپنے فضل اور رحم سے ان قربانیوں کو قبول فرما اور تو ہمیں اپنی رضا کی جنت میں داخل فر ما سعی مشکور ہو ہماری ، وہ سعی نہ ہو جو ہمارے منہ پر مار دی جائے اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال ہم اسی کے حضور پیش کرتے ہیں اس کا احسان ہے کہ وہ ہماری طرف سے قبول کر لیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور آپ کا فرمودہ در تخمین میں مندرجہ آمین میں یہ چھوٹا سا مصرعہ بڑا ہی پیارا ہے۔گھر سے تو کچھ نہ لائے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کسی بات پر ناز کیا؟ اور قربانی کیا ؟ اور ایثار کیسا؟ اور تم پیش کیا کر رہے ہو، یہ تو اس کا احسان ہے کہ وہ کہتا ہے اے میرے بندے! میں نے جو تمہیں مال دیا تھا وہ تو اب میرے سامنے اخلاص اور پیار سے اور میری محبت میں میرے حضور پیش کر رہا ہے میں اس کو اس طرح قبول کر لیتا ہوں جس طرح واقعی تیرا ہے یہ تو اس کا احسان ہے۔وہاں افریقہ میں بچوں نے ایک نظم پڑھی تھی پوری تو مجھے یاد نہیں عربی میں ہے اور بہت ہی اچھی ہے۔بچوں کے نرم نرم ہونٹوں سے بڑی پیاری لگتی تھی يَا ابْنَ آدَمَ الْمَالُ مَالِي وَالْجَنَّةُ جَنَّتِي وَ اَنْتُمْ عِبَادِي يَا عِبَادِي اشْتَرُوا جَنَّتِي بِمَانِي