خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 111

خطبات ناصر جلد سوم 111 خطبہ جمعہ ۱۵ رمئی ۱۹۷۰ء حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ثابت فرمایا کہ پیرا ماؤنٹ چیفس اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں کوئی فرق نہیں وہ نام نہا د غلام غلام نہیں بلکہ انسانیت کی بلند کرسی پر متمکن ہے۔فرمایا میں نے یہی پیغام اہل افریقہ تک پہنچایا۔یہ پیغام امن، محبت ، ہمدردی اور مساواتِ انسانی کا پیغام ہے۔فرمایا میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس سے ہمارے کندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری آن پڑی ہے ہمیں یہ ثابت کرنا ہے اور عملاً بتانا ہے کہ واقعی ہم انسانی مساوات پر یقین رکھتے ہیں۔ہمیں اپنے اعمال اور افعال کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔میں نے یہ پیغام ان مظلوم قوموں تک پہنچا دیا ہے اس سے ہماری ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اگر ہم یہ ذمہ داری ادا کر دیں تو اسلام کے غلبے کا دن بہت قریب آجائے گا اور پندرہ سے بائیس سال کے عرصے میں اسلام کے حق میں ایک عظیم انقلاب رونما ہوگا اور اگر یہ مظلوم افریقن اپنا فرض ادا کر دیں اور ہم اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر رہیں تو دنیا کے رہبر وہ ہوں گے۔اللہ تعالی کی رحمت پر کسی کی اجارہ داری نہیں۔محض مسلمان کے گھر پیدا ہونا کوئی چنداں فائدے کی بات نہیں اللہ تعالیٰ ہم سب سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں پہچانیں اور ان کی ادائیگی کی کوشش کریں۔فرمایا:۔اب جبکہ میں ان علاقوں سے ہو کر آیا ہوں تو مجھے ان کی نہیں آپ کی فکر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں امید کا چاند روشن ہوا ہے اور وہاں کے رہنے والوں نے اپنے اُفق پر اسے طلوع ہوتے ہوئے دیکھ لیا ہے لیکن یہ ابھی پہلی رات کا چاند ہے اور ایک کمان کی طرح ہے۔- مسیح موعود علیہ السلام نے بدر ہونے کا دعویٰ فرمایا ہے۔اس لئے ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ پہلی کا چاند جلد تر چودھویں کا چاند بن کر ارض افریقہ کے درو دیوار کو منور کر دے۔بیشک ہم یورپ میں بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔لیکن یہ لوگ اپنے تن کے دھندوں میں منہمک ہیں اور الحاد اور ماڈیت کی عینک چڑھائے اپنی اخلاقی اور روحانی ذمہ داریاں ادا کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔میری دعا ہے کہ یہ بھی اپنے خالق کو پہچان لیں اور اس تباہی سے اپنے آپ کو بچالیں جس کی طرف وہ اپنے اعمال