خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 84

خطبات ناصر جلد سوم ۸۴ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء زندہ رہیں یا ہمیں اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑے ہمیں اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دینا ہے۔یہ جماعت جب پیدا ہو جائے پھر ان کا یہ حق بن جاتا ہے کہ وہ صاحب الرائے ہیں کیونکہ ان سے مشورہ لیا جاتا ہے شہد کا ایک جزو تیار ہو گیا۔دوسرا جز و عزم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور عزم انہوں نے نہیں کرنا۔انہوں نے تو جو کچھ تھا پیش کر دیا تھا جس طرح چاہیں آپ اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔پھول زبانِ حال سے مکھی کو یہی کہتا ہے کہ میرا نچوڑ تیرے حضور پیش، تو اب جس طرح چاہے اس کو استعمال کر لے اور جس طرح چاہے وہ استعمال بھی کرتی ہے کیونکہ اس میں اپنے Enzymes (انزائمز ) ملاتی ہے اس کو خشک کرتی ہے قوام بناتی ہے اپنے Enzymes ( انزائمز ) ملاتی ہے اور پھر وہ فیصلہ کرتی ہے (اس میں انسان کا بھی تھوڑا سا دخل ہے ) لیکن اصل اسی کا فیصلہ ہے کہ میں نے کچھ انسان کو دینا ہے اور بیچ میں سے بہت کچھ خود کھا لینا ہے اور اس طرح انسان کے ہاتھ میں شفاء کی ایک چیز آ جاتی ہے چنانچہ پھر یہ کہنا کہ صرف آراء کے اوپر نہیں چھوڑ نی بات۔اگر صرف رائے پر چھوڑنی ہو بات تو کثرتِ رائے کی پابندی ضروری ہو جائے مگر ابھی تو شہر ہی نہیں بنا ابھی تو اس میں شفاء ہی نہیں پیدا ہوئی کثرتِ رائے پر کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ پھر کہا کہ عزم اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ ہر قسم کی Enzymes ( انزائمز ) مثال کے طور پر اس Nectar (نیکٹر ) میں، اُس پھول کے جزو میں تم شامل کرو اور پھر عزم جو ہے اس کے اندر دعا کا حصہ بھی آجاتا ہے کیونکہ عزم کے دو معنے ہیں ایک تو یہ عزم کرنا کہ یہ کام ہم نے ضرور کرنا ہے یہ بھی لغوی طور پر عزم 66 کے معنے میں ہے کہ پھر اس کام کی سرانجام دہی کے لئے انتہائی کوشش کرنا۔اور جَدَّ فِي الْأَمْرِ “ جو عربی میں اس کو کہا گیا ہے اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ تدبیر دعا ہے اور دعا تدبیر ہے تو دعا کا پہلو بھی اس کے اندر آ جاتا ہے۔پس کہا کہ تم اپنا عزم اس رائے کے بیچ میں شامل کرو اور انتہائی دعاؤں کے ساتھ ایک ایسی چیز ایک ایسا شہر بناؤ ایک ایسا فیصلہ کرو جو اسلام کے استحکام کے لئے ضروری ہے اور جو کمز ور ایمان والوں کے لئے شفا ہے اور جو Prophylactic ( پرافیلیکٹک ) کے طور پر بیماریوں سے محفوظ رکھنے والا ہے۔تربیت ، علاج اور اصلاح دونوں چیزیں اس کے اندر آ جاتی ہیں۔پس تربیت تو Prophylactic ( پرافیلیکٹک )