خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 53
خطبات ناصر جلد سوم ۵۳ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہوں گے۔پھر سب سے زیادہ توجہ ہمیں ان تعلیمی اداروں کی طرف کرنی چاہیے جور بوہ میں قائم ہیں۔ان کی مرکزی حیثیت ہے بہت سے دوست کافی مالی بوجھ برداشت کر کے اور تکالیف اُٹھا کر اپنے بچوں کو ربوہ میں تعلیم کے لئے بھجواتے ہیں۔ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول اور اس مرکز کے لئے جو غلبہ اسلام کے لئے قائم کیا گیا ہے محبت اور پیار ہے وہ چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو اس دینی ماحول میں پرورش اور تعلیم دلوائیں یہاں وہ اپنے بچے بھیج دیتے ہیں اور خود تکالیف اُٹھاتے ہیں ایسے بیسیوں خاندان ہیں کہ جو بیوی بچوں کو یہاں بھجوا دیتے ہیں اور خود تنگی سے گزارہ کرتے ہیں۔گھر کا ماحول انہیں میسر نہیں ہوتا یعنی نہ بیوی پاس ہے نہ بچے پاس ہیں لیکن وہ ان تکالیف کو اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے صحیح ماحول میں تربیت اور تعلیم حاصل کریں لیکن مجھے افسوس سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ یہاں بہت سے اساتذہ ایسے ہیں جو ہمارے تعلیمی اداروں کو ایک کلب سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے وہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً کالج میں گئے ، بیٹھے باتیں کیں اور ایک دوسرے کو ہنسی اور تمسخر کا نشانہ بنایا اور اس طرح اپنا وقت ضائع کیا اور گھروں کو آگئے اور ہر مہینے کے شروع میں پچھلے مہینے کی تنخواہ وصول کی۔کوئی احساس ہی نہیں میں تو سمجھتا ہوں کہ یہاں بعض ایسے داغ ہیں کہ احمدیت کا معیار تو کیا انسانیت کا معیار بھی انہیں حاصل نہیں ہے اور نظارت تعلیم کو اس بات کی کوئی فکر نہیں اگر کوئی شخص وہ ذمہ داری اُٹھانا نہیں چاہتا جو اسلام اس کے کندھوں پر ڈالتا ہے تو کس نے اسے مجبور کیا ہے کہ وہ ہمارے پاس رہے اور ہمیں کسی نے مجبور نہیں کیا کہ ہم اسے اپنے پاس رکھیں یا تو ایسے اساتذہ تعلیم اور تربیت کی طرف پوری توجہ دیں اور یا وہ کہیں اور چلے جائیں۔کون ان کو یہاں روکتا ہے لیکن اگر انہوں نے مرکز میں رہ کر اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے خود کو پیش کیا ہے تو انہیں یہ ذمہ داری نباہنی پڑے گی اگر وہ نہیں نبا ہیں گے تو ہم ان کو باہر بھیج دیں گے۔کہیں اور جائیں۔اللہ تعالیٰ نے جس کو پیدا کیا ہے اس کے رزق کا تو وہ ذمہ وار ہے میں یا آپ اس کے ذمہ وار نہیں ہیں لیکن جو ذمہ واری مجھ پر اور آپ (اہل ربوہ) پر ہے یہ ہے کہ ہم اپنے ماحول کو علمی لحاظ سے بھی اور اخلاقی لحاظ سے بھی اور تربیتی لحاظ سے بھی اس طرح صاف اور پاک رکھیں کہ ہماری آئندہ نسل اس میں اس رنگ