خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 567 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 567

خطبات ناصر جلد سوم ۵۶۷ خطبہ جمعہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۷۱ء سے کہنے والے نے یہ کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق جاننا چاہتے ہو تو قران کریم پڑھ لو۔جو کہا گیا وہ کیا گیا۔پس وہ خدا جو اپنے اس پیارے محبوب کی دعاؤں کوسنے والا اور یا در رکھنے والا ہے اور اپنے ہے، وہ اس محبوب کے اعمال کے اخلاص اور نیت کی پاکیزگی اور ہمدردی کے جذ بہ کا علم رکھنے والا۔کیوں آپ کی دعائیں قبول نہیں کرے گا اور امت محمدیہ کو پریشانیوں سے کیوں نہ بچائے گا۔قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پھر وہ خدا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل ہماری دعاؤں کو بھی سنتا ہے وہ کیوں ہماری مشکلیں آسان نہیں کرے گا مگر شرط یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں خلوص ہو۔ہماری نیتیں پاک ہوں۔ہمارے جسم کا رواں رواں اس بات کے لئے تڑپ رہا ہو کہ دنیا سے دُکھ دور ہو جائیں اور ہم دُکھ دُور کرنے والے بنیں اور ہمارے دل گالیاں سُن کر غصے سے نہیں بلکہ دعاؤں سے اس طرح لبریز ہو جائیں جس طرح سمندر کی زمین پانی سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔وہ خدا جو سمیع ہے وہ ہماری ان مخلصانہ دعاؤں کو سننے والا اور ہماری نیتوں اور اعمال کو جاننے والا اور استغفار کے نتیجہ میں ہماری بشری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لینے والا ہے۔اس سمیع اور علیم خدا پر ایمان لانے کے بعد مشکلات میں گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ خدا وہ ہے جس کے متعلق ہم جانتے ہیں: "إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا “ کہ سب قدرت خدا تعالیٰ ہی کی ہے اور ہر چیز پر غلبہ اسی کو حاصل ہے۔کسی اور کا اگر کوئی غلبہ ہمیں نظر آتا ہے تو یہ امتحاناً یہ ابتلاء یا انعاماً اس کو حاصل ہوتا ہے۔اصل عزت اور غلبہ اور قدرت اور طاقت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے۔ہم اس خدائے قادر و توانا پر ایمان لائے ہیں۔وہ تمام قدرتوں کا مالک اور تمام غلبہ اور طاقت کا سرچشمہ ہے۔وہ ہمیں فرماتا ہے: "وَلَا يَحْزُنُكَ قَولُهُمْ “ اس قسم کے پوسٹر لگیں یا تقریریں ہوں تو تم نے غم نہیں کرنا۔اس لئے ہم کیسے غم کر سکتے ہیں۔پس آپ نے اشتعال میں نہیں آنا کیونکہ اس وقت ہمارا ملک بڑے ہی نازک دور میں