خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 553
خطبات ناصر جلد سوم ہوتی تھی۔۵۵۳ خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۷۱ء اب یہ بھی ایک فوج کا زمانے پر پھیلا ہوا محاذ ہے۔ہمارا مکان کے لحاظ سے پھیلا ہوا محاذ ہے۔ہمارا محاذ کراچی سے لے کر کارگل سے ہوتا ہوا دیناج پور سے سارے مشرقی پاکستان پر پھیلا ہوا ہے۔ہر محاذ پر ہماری مختلف ٹولیاں موجود ہیں۔پہلے ایک ہی ٹولی تھی جو زمانے میں پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔اب ایک فوج کی مختلف ٹولیاں ہیں یا گروہ ہیں یا ڈویژن ہیں۔یعنی فوج تقسیم ہو کر اس کی مختلف ٹولیاں ہمیں مختلف محاذوں پر نظر آتی ہیں۔جس طرح زمانے پر پھیلے ہوئے محاذ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ دُکھ اُٹھانا پڑتا تھا اور پریشانی اٹھانی پڑتی تھی، آج ہمیں بعض محاذوں پر مکانی لحاظ سے وہ دُکھ اور پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔پس یہ خطرہ تو جنگ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔جنگ کبھی ایک شکل اختیار کرتی ہے، کبھی دوسری شکل اختیار کرتی ہے لیکن یہ جو جھڑ ہیں ہیں ان سے قسمتوں کا فیصلہ نہیں ہوا کرتا جو جنگ ہے اس کے جیتنے یا ہارنے سے قسمت کا فیصلہ ہوا کرتا ہے اور جنگ جیتنے کے لئے بنگال یعنی مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے اس کے باوجود جس انتہائی جد و جہد کی ضرورت ہے، اس میں ایک ذرہ بھر کمی نہیں آنی چاہیے اور نہ دلوں میں اُداسی اور مایوسی پیدا ہونی چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھی زیادہ بڑھنا چاہیے۔پہلے زمانے میں تو زمانے کے لحاظ سے جو پریشانی تھی وہ زیادہ خطر ناک تھی کیونکہ ساری کی ساری فوج کے لئے پریشانی تھی۔اب ہماری ساری کی ساری فوج کے لئے پریشانی نہیں پیدا ہوئی۔ایک حصہ ملک کے لئے پریشانی پیدا ہوئی ہے۔اگر ہمارے اندر غیرت ایمانی ہے تو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ جب تک ہم جنگ نہیں جیت لیتے ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔اس کے بغیر تو پھر مسلمان کہلانے میں کوئی مزہ نہیں ہے۔یہ یاد رکھیں (احمدی بھی ! اور میرے دوسرے بھائی بھی !) کہ اگر ایمان اور تقویٰ اور طہارت اور اسلام کے حق میں جو بشارتیں ہیں اُن کا ذکر ہم نے اپنی زبانوں پر اپنی مجالس میں ، اپنی گفتگو میں ، اپنے ریڈیو پر اور اپنے اخباروں میں کرنا ہے، تو پھر مسلمان بننا پڑے گا ورنہ ہم ان بشارتوں کے حامل نہیں ہو سکتے جو اسلام کے حق میں اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ان وعدوں کو وراثت میں ہم تبھی حاصل