خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 521 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 521

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲۱ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء نے مذہب سے رشتے توڑ کر اندھیری کھائی میں چھلانگ لگائی ہے اور وہ انسان کو روشنیوں کی طرف لے کر نہیں گئی۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔وَلَا رَهَقًا اپنے رب پر ایمان لانے والا اور ایمانی تقاضوں کو پورا کر کے اپنی زندگی کو اسوۂ محمدی میں ڈھالنے والا اور شریعت محمدیہ پر عمل کرنے والا انسان وَلَا رَهَقًا کا مصداق ہے۔اُسے کسی جہالت یا سفاہت یا حماقت کا کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ روشنی کا ایک مینار اس کے پاس لا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔نور کے ایک سرچشمے سے اس کا تعلق قائم کر دیا گیا ہے۔جس شخص کا تعلق حقیقی طور پر اور کچے معنوں میں نور کے سرچشمے سے قائم کر دیا جاتا ہے،اس کو اندھیرے سے کیا خوف ہوسکتا ہے۔رَهَقًا کے چوتھے معنے یہ ہیں کہ اسلامی شریعت اتنی حسین ہے کہ تم کسی حالت میں بھی کیوں نہ ہو، وہ تمہارے لئے تکلیف ما لا يطاق پیدا نہیں کرتی کیونکہ رھق کے چوتھے معنے منجد میں یہ لکھے ہیں :۔حَمْلُ الْمَرْءِ عَلَى مَا لَا يُطِيقُهُ۔یعنی کسی شخص پر ایسا بوجھ ڈالنا کہ جسے وہ برداشت نہ کر سکے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے، بار بار دُہرانے کی ضرورت نہیں آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں ہر انسان مخاطب ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے انسان کو بھی مخاطب کیا ہے۔ہمیں بھی مخاطب کیا ہے اور ہم سے ایک ہزار سال بعد اگر دنیا ر ہی تو اس وقت کے انسان کو بھی قرآن کریم مخاطب کر کے یہی کہے گا۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) کہ تمہاری وسعت کے مطابق تم پر بار ڈالا جائے گا اس میں رکسی فلسفے کی ضرورت نہیں ہے۔شریعت میں اتنی لچک ضرور ہونی چاہیے کہ ہر فرد کی طاقت کے مطابق اس کی ہدا یتیں بدلتی چلی جائیں۔قرآن کریم کے بہت سے احکام میں سے مثلاً روزہ کو لے لو۔ایک صحت مند بچہ ہے اور نظر آرہا ہے کہ وہ پہلوان بنے والا ہے لیکن دس سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے اُسے فرمایا کہ