خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 486 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 486

خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۶ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء چاہیے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو مجاہدہ شدیدہ میں ڈالتے ہیں اور ایسی ریاضتیں کرتے ہیں جو اسلام نے ہمیں نہیں بتا ئیں ، انہیں بھی اپنی یہ عادت چھوڑنی چاہیے۔ایک تیسرا گروہ ایسے لوگوں کا ہے جو موجودہ زمانہ کے فلسفہ سے متاثر ہے اور یہ گروہ بڑے دھڑلے سے یہ کہنے لگ گیا ہے کہ جو عبادتیں قائم کی گئی ہیں اُن میں ترمیم ہونی چاہیے۔یعنی خدا تعالیٰ کو نعوذ باللہ اس زمانے کے حالات کا علم نہیں تھا، اس واسطے اس نے یہ قانون بنادیا ہے اب زمانہ بدل گیا ہے حالات بدل گئے ہیں اب ان عبادتوں میں ترمیم ہونی چاہیے لیکن ایسا خیال (ایسے خیال کے لوگ فی الواقعہ پائے جاتے ہیں ) اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ تبدیلی کی ضرورت ہے بلکہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ لوگ روحانی بینائی سے محروم ہیں اور جس کو چہ کی انہیں خبر ہی نہیں، یہ اس کے متعلق اصلاحی تجاویز کے نام سے تجاویز پیش کر دیتے ہیں۔یہ بھی غلط بات ہے۔جب عَلامُ الْغُيُوبِ خدا نے ہماری جسمانی اور روحانی صحت اور جسمانی اور روحانی نشوونما کے لئے کچھ عبادتیں ہم پر فرض قرار دی ہیں ، تو وہی ہمارے جسموں کے لئے بھی اور ہماری روح کے لئے بھی بہتر ہیں۔نہ سالوں روزے رکھنا جائز اور نہ رمضان کے مہینے میں جائز عذر کے بغیر روزہ چھوڑ نا درست اور پسندیدہ اور نہ کسی ترمیم کی ضرورت ہے۔ہمیں دین العجائز اختیار کرنا چاہیے جو خدا نے فرمایا ہے وہ ہم کریں گے جس کو وہ پسند فرماتا ہے اسی میں ہماری رضا ہے روزہ چھوڑنے کے لئے بہانے تلاش نہیں کریں گے اور جب روزہ چھوڑنے کا حکم ہو تو اس وہم میں مبتلا نہیں ہوں گے کہ ہم اپنی عبادت یا کوشش یا مجاہدے کے زور سے اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں۔ہم اس طرح راضی نہیں کر سکتے جو عبادت قبول ہوگی ، جو تحفہ لے لیا جائے گا اس کا نتیجہ نکلے گا۔اس کے نتیجہ میں ہمیں رضائے الہی حاصل ہوگی۔اس کے بغیر تو ( یعنی عبادت کے زور سے ) رضائے الہی حاصل نہیں ہو سکتی۔رمضان کی عبادت محض بھوکا رہنے کا نام نہیں۔حدیثوں میں اس کے متعلق بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے میں نے بھی پچھلے سالوں میں اپنے بعض خطبات میں تفصیل سے بتایا تھا کہ روزہ کا مطلب محض بھوکا رہنا نہیں بلکہ ماہ رمضان کی عبادت دراصل بہت سی عبادات کا مجموعہ ہے۔اس