خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 430
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۰ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء سے لڑو مگر مسلمانوں نے کہا۔اے ہمارے خدا! ہمارے اندر کوئی طاقت نہیں ہے۔یہ ہمیں ہلاک کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ہم تیری اجازت کے بغیر ان کے خلاف ایک تنکا بھی نہیں اٹھائیں گے چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھائی اس سے پہلے تو مسلمانوں نے تلوار نہیں پکڑی۔جب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میری طرف سے اجازت ہے تو مسلمان اپنی ٹوٹی ہوئی تلواروں کے ساتھ میدان میں نکل کھڑے ہوئے بعض دفعہ تو ان کی لکڑی کی تلواریں ہوتی تھیں۔بعض دفعہ تلواروں کے مقابلے میں سوٹیاں حتی کہ خیموں کے ڈنڈے استعمال کرنے پڑے۔یرموک کی جنگ میں مسلمانوں نے ایک موقعہ پر خیموں کے ڈنڈے استعمال کئے اور مدینہ میں بھی کئے۔غرض دشمن کی تلواروں کے مقابلے میں یہ چیزیں استعمال ہوتی تھیں۔اب جو شخص ایک تنکا لے کر ایک پہاڑ کا مقابلہ کرتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ وہی جیتے گا اس شخص پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے اپنے تنکے پر بھروسہ کیا اور اپنے خدا پر بھروسہ نہیں کیا کیونکہ تنکے اور پہاڑ کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔پس تدبیر کی دنیا میں مخالفین کو تھوڑی سی تدبیر کرنے کی اجازت دے دی۔ادھر مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری یہ تلواریں کسی کام کی نہیں ہیں۔میری طاقت آئے گی آسمان سے میرے فرشتے نازل ہوں گے اور وہ تمہارے مخالفین کو ہلاک اور تمہاری حفاظت کریں گے۔پس مخالفین کا ایک منصو بہ بقول ان کے دین کے نام پر جمع ہو کر جو حقیقی دیندار ہے اسے بے دین کہہ کر ہلاک کرنے کا ہے اور چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ابدی زندگی عطا کی ہے اس لئے قیامت تک اس قسم کے منصوبے ہوتے رہیں گے لیکن میں اس وقت ان کا ذکر نہیں کر رہا۔میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندگی کے واقعات بتا رہا ہوں چنانچہ آپ کے زمانہ میں سارے بے دین آپ کے خلاف اکٹھے ہو گئے یعنی حیرت ہوتی ہے کہ ملکہ کے بت پرست اور تورات کے حامل یہودیوں کا دین تو ٹھیک ہو گیا اور انہوں نے اپنے آپ کو صداقت پر سمجھ لیا لیکن وہ جو خدائے واحد و یگانہ کی طرف لوگوں کو بلاتا تھا۔وہ جس کے حق میں خانہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بشارت دی تھی اور تورات کے حامل حضرت موسیٰ علیہ السلام