خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 402

خطبات ناصر جلد سوم ۴۰۲ خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۷۰ء غافل انسان کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ جب تک وہ اپنی غفلت کی چادر میں پھاڑ کر بیداری اور ہوشیاری اور نور کے سایہ تلے نہیں آجاتا اس وقت تک وہ اس معنے میں بھی شرک کرتا ہے کہ وہ اپنے ارادے اور اپنی خواہشات اور اپنے احکام اور اپنے کلمات دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر کبھی اس کا اور اس کے پیدا کرنے والے رب کا مقابلہ ہوا تو وہ اپنے رب کو شکست دے گا اور خود کامیاب ہوگا لیکن انسان کی ہدایت کے لئے جب اللہ تعالیٰ اپنے منصوبے بنا تا اور ان کو جاری فرماتا ہے تو ایک ایسی جماعت پیدا کرتا ہے جو اس کے ساتھ زندہ تعلق رکھنے والی اور اس کے وعدوں پر پورا یقین رکھنے والی ہوتی ہے اور پھر اس طرح پر یہ ایک چھوٹی سی جماعت، یہ ایک بے سہارا جماعت، یہ ایک کم مایہ جماعت جب دنیا کے اموال اور دنیا کے اثر ورسوخ اور دنیا کے جتھوں کے مقابلے پر آتی ہے تو وہ دنیوی دولت اور وہ دنیوی اثر ورسوخ اور وہ دنیوی کثرت جو یہ بجھتی ہے کہ ان کی مرضی چلے گی اور ان کے رب کی مرضی نہیں چلے گی ناکام ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا یہ نظارہ اپنے بندوں کو دکھاتا ہے کہ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ الله (الانعام : ۳۵) دنیا کی کوئی ایک طاقت تو کیا سب طاقتیں مل کر بھی اس کے کلمات یعنی اس کے وعدوں اور بشارتوں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ہوگا وہی جو خدا چاہے گا وہ نہیں ہوگا جو د نیا چاہے گی کیونکہ دنیا کے غرور اور دنیا کے اموال اور طاقت میں مست لوگ جب اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں کے مقابلے پر آتے ہیں اور ظاہری اعتبار سے انہیں کم مایہ اور کمزور پاتے ہیں تو وہ مختلف قسم کے حربے ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں وہ انہیں کہتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔انہیں کہتے ہیں کہ تم کا فر ہو۔انہیں کہتے ہیں کہ تم دین میں فتنہ پیدا کرنے والے ہو اور خود ساری جہالتوں اور جہالت کے سبب اندھیروں کے باوجود یہ دعویٰ کرتے کہ وہ حق پر ہیں اور وہ صداقت پر ہیں اور سچائی ان کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا۔وہ لوگ جو مذہب سے دلچسپی رکھتے ہیں جن کے دل میں خدا اور اس کے رسول کے لئے ایک نامعلوم سی محبت ہوتی ہے ان کو اس طرح دھو کے میں ڈال کر حقیقت سے دور اور صداقت سے پرے لے جانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور الہی جماعت کی تکذیب ہوتی ہے تکفیر ہوتی ہے۔ساری دنیا اکٹھی ہو کر انہیں کا فر