خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 403 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 403

خطبات ناصر جلد سوم کہنے لگ جاتی ہے۔۴۰۳ خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۷۰ء اسی طرح جب وہ دیکھتے ہیں کہ تھوڑے ہونے کے باوجود، کم مایہ ہونے کے باوجود بے سہارا ہوتے ہوئے بھی یہ جماعت ان سے خوف نہیں کھاتی یہ جماعت اس طرح نڈر ہے کہ جب یہ لوگ اس کے لئے آگ جلاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں لا مُبَدِّلَ لِكَلِت اللہ ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے۔آگیں جتنی چاہو جلا لو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمت اللہ جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہی پورا ہوتا ہے۔پس دنیا میں الہی جماعت کے خلاف بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں بڑی تدبیریں کی جاتی ہیں کہ انہیں صفیہ ہستی سے مٹادیا جائے کہنے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ہمیں طاقت ملی تو تین دن کے اندراندر تمام احمدیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیں گے مگر تختہ دار تو اسے ملتا ہے جسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ملے لیکن خدا تعالیٰ جس کی حفاظت کرنی چاہے تو وہ جلتی ہوئی آگ میں سے بھی بچا کر لے آتا ہے اسے تو وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح تختہ دار سے بھی زندہ اتار لیتا ہے۔الہی طاقتوں کے مقابلے میں مادی ذرائع کوئی حقیقت نہیں رکھتے نہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں لیکن جب تکفیر ہو رہی ہوتی ہے۔جب ایذا رسانی کے تمام منصوبے اور تمام تدابیر اختیار کی جارہی ہوتی ہیں تو یہ چھوٹی سی جماعت جو اپنے رب سے تعلق رکھتی ہے جو اپنے رب کے دامن سے چھٹی ہوتی ہے اور اس سے پرے ہٹنا نہیں چاہتی وہ پورے ثبات قدم کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو ثابت کرتی ہے وہ دنیا کے سارے خوف دل سے مٹا کر اور دنیا کی ہر خشیت سے بیزاری کا اظہار کر کے اپنے رب کو یہ کہتی ہے کہ اے ہمارے رب! اگر تجھے ہماری جان چاہیے تو ہم بھیل نہیں ہیں جان دینے میں کیونکہ ہم تو تیری رضا کے طالب ہیں اور دنیا جو مرضی کر لے ہو گا وہی جو تو چاہے گا اور تو یہ چاہ کہ ہم ثابت قدم رہیں۔دعا کے ساتھ اور دعاؤں کے نتیجہ میں صبر کی طاقت پاکر اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اسکی طاقتوں کے معجزے دکھانے کا حزب اللہ ایک آلہ بن جاتا ہے جیسے ایک بلب ہے جس کے اندر ایک تار ہوتی ہے جو ذریعہ بن جاتی ہے نہ نظر آنے والی بجلی کی روشنی کو ظاہر کرنے کا، اسی طرح یہ جماعت ذریعہ بن جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی طاقتوں اور قدرتوں کے جلوے دکھانے