خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 321

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۱ خطبہ جمعہ ۴؍ستمبر ۱۹۷۰ء بادل کو تو کوئی جزا نہیں ملتی۔اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا ہے کہ جو میں کہوں گا وہ تم کرو گے اور بس۔اس کے بعد اس کی نہ کوئی اور زندگی اور نہ کسی اور شکل میں جزا ہے۔انسان کو کہا جو میں کہتا ہوں تم کو کرنا پڑے گا اور اگر تم کرو گے تو جو تھوڑی سی آزادی میں نے تمہیں ایک خاص ماحول میں دے رکھی ہے اس میں تم میری جزا کو حاصل کرو گے۔اس جزا کے لئے اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے، اس کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک عقلمند اور معرفت رکھنے والا انسان اس کی راہ میں اس دنیا کی محبتوں اور حقیر، بے معنی اور بے وزن چیزوں کو یوں قربان کر دیتا ہے کہ واقعہ میں دنیا سمجھتی ہے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔اسی لئے لوگ مجنون کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ پاگل ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا کی چیزوں کی کوئی قیمت بھی ہے یا نہیں۔انسانی جان کی کوئی قیمت بھی ہے یا نہیں۔انسان کو بچوں سے پیار بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ان کا عمل بھی یہی ثابت کرتا ہے۔جولوگ مدینہ سے سب کچھ چھوڑ کر چلے گئے ، مہاجر بھی جنہوں نے مدینہ کو اپنا دوسرا گھر بنا یا تھا اور انصار بھی جو وہاں کے رہنے والے تھے سالوں دور رہتے تھے۔انہوں نے تو کبھی اپنے بچوں کا خیال نہیں کیا ، نہ انہوں نے اپنے خاندانی حالات کی پرواہ کی۔انہیں ایک ہی خیال تھا اور ایک ہی دھن تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول تھا۔ہماری جماعت میں ان بشارتوں پر یہ انتہائی یقین پیدا ہونا چاہیے بہتوں کو ہے جوسست ہیں انہیں اپنی مستیاں دور کرنی چاہئیں۔کتنے عظیم وعدے ہیں ہمارے ساتھ اور پھر وعدے دینے والا عظیم قدرتوں کا مالک ہے، عزت کا سرچشمہ بھی وہی ہے اسی کے ہاتھ میں اقتدار اور دنیوی وجاہت اور طاقت ہے جو اسی سے حاصل ہو سکتی ہے باقی تو اس دنیا میں عارضی چیزیں ہیں۔آج جو پریذیڈنٹ بن جاتا ہے کل وہی شخص قوم سے گالیاں کھا رہا ہوتا ہے اس دنیا کی عزت کی پائیداری ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ساری انسانی تاریخ میں دیکھ لیں کہیں بھی دنیوی عزت ہمیں پائیدار نظر نہیں آتی۔بڑے بڑے لوگ ہوئے مثلاً ہٹلر جیسا آدمی جس کے نام سے دنیا کا نپ اٹھتی تھی وہ کہاں گیا ؟ اب بھی میں وہاں گیا ہوں اس زمانے میں بھی جایا کرتا تھا اس کے ساتھ لوگوں کی محبت کے نظارے بھی میں نے دیکھے ہیں۔ایک دفعہ ہم ایک پرانے ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے