خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 322
خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۲ خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء تھے اتفاقاً ہٹلر بھی اپنی پارٹی کے بعض لوگوں کے ساتھ وہیں ایک کونے میں بیٹھا تھا وہاں عموماً یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی میز کے اردگرد کوئی کرسی خالی پڑی ہو تو جان پہچان نہ ہونے کے باوجود اس پر کوئی اور آدمی آکر بیٹھ جاتا ہے۔ہماری میز پر ایک عورت آکر بیٹھی جسے ہٹلر سے اس طرح کا پیار تھا جس طرح واقعی انبیاء سے پیار ہوتا ہے وہ کہنے لگی ہمارا تو دل کرتا ہے کہ دشمن ہماری بوٹی بوٹی نوچ کر لے جائے مگر ہٹلر کو کچھ نہ ہو۔پس اس کے لئے قوم کا وہ پیار بھی دیکھا اور اب جب ہم گئے ہیں تو اسی قوم کا ہٹلر کو گالیاں دیتے بھی سنا۔غرض دنیا کی عزتیں تو آنی جانی چیزیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو حقیقی عزت کا سرچشمہ ہے جب اس کی نگاہ میں انسان اس کا پیار دیکھ لیتا ہے اور پھر اگر یہ ٹھیک رہے تو اسے ہمیشہ پیار ملتا رہتا ہے۔اس دنیا میں بھی اور ابد الآباد تک یعنی آخری دنیا میں بھی۔اس دنیا میں ڈھکے چھپے پیار کے نظارے ہوتے ہیں کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ یہ مادی دنیا ہے میں نے یہاں پردہ ڈالا ہوا ہے لیکن انسان کو اس زندگی کے بعد جو پیار نظر آئے گا وہ تو اللہ تعالیٰ کے پیار کو بھی سمجھے گا کہ مجھے وہاں تھوڑا سا ملا تھا اور میں بہت کچھ سمجھا۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے پیار کے اصل نظارے تو اب دیکھ رہا ہوں۔پس ہمیں جو وعدے دیئے گئے ہیں وہ ہمارے سامنے آتے رہنے چاہئیں اور جوان وعدوں اور بشارتوں کے تقاضے ہیں وہ ہمیں پورے کرنے چاہئیں۔اس واسطے آج میں یہ نئی طرز کا خطبہ دینے لگا ہوں کہ چند حوالے پڑھ دوں گا اور ان پر کوئی رائے نہیں دوں گا۔آپ غور سے سنیں اور سوچیں کہ ایک ایک عبارت میں ہیں ہمیں ایسے وعدے ہیں جو بڑے عظیم ہیں ہر وعدہ جو ہے ہر بشارت جو ہے وہ ہم پر ایک عظیم ذمہ واری ڈالتی چلی جاتی ہے۔آپ ہی کے کچھ تو بچے ہیں ان کو تو کسی اور وقت تفصیل سے سمجھانا پڑھے گا لیکن جو پرانے احمدی ہیں انہیں اس سے پہلے سوچنا چاہیے تھا اور اگر نہیں سوچا تو انہیں اتنی سمجھ اور عقل ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز قربان کر کے ان بشارتوں کا اپنے آپ کو وارث بنا ئیں۔پس وہ تو سمجھ سکتے ہیں اور میں ان کو یا ان کے ذہنوں کو اس طرف لانا چاہتا ہوں کہ میں عبارت پڑھوں اور احباب سوچتے رہیں۔چند ایک حوالے میں نے لئے ہیں۔۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تذکرۃ الشہادتین میں دنیا کو بھی بتایا