خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 269

خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۹ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء ایمان کا پہلا تقاضا اور وہی دراصل ایمان کی روح اور اسلام کی جان ہے وہ ایمان باللہ ہے۔پس جب میں نے کہا تھا کہ ایمان میں پختگی پیدا کرو تو میرا یہی مطلب تھا کہ ایمان کے جتنے پہلو اور جتنی شاخیں ہیں ہر پہلو اور شاخ کے متعلق اپنے ایمانوں میں پختگی پیدا کر وایمان کے مضمون کے اندر جو بنیادی چیز ہے وہ ایمان باللہ ہے یعنی اللہ پر ایمان لانا۔اللہ پر ایمان لانا اور لانے میں بڑا فرق ہے ایک شخص اللہ تعالیٰ کو جانتا ہی نہیں لیکن زبان سے کہتا ہے کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں اللہ پر حقیقی ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں اس کی معرفت حاصل ہو اور جب پوری معرفت حاصل ہو جائے تو پھر سب کچھ حاصل ہو جاتا ہے۔معرفت کے بغیر وہ چیز ہمیں مل نہیں سکتی جو اسلام ہمیں دینا چاہتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا۔پس صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے خدا اور رسول کے نزدیک یہ کافی نہیں ہے اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان لانا چاہیے جس طرح قرآن کریم کہتا ہے کہ ایمان لاؤ مثلاً اللہ تعالیٰ کو ہر حالت اور زندگی کے ہر موڑ پر قادر مطلق سمجھنا دنیا میں کسی قوم یا کسی انسان کی زندگی میں کوئی ایسا موقعہ نہیں آیا کہ جس وقت یہ کہا جائے کہ اب خدا بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔پس اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا یہ بھی ایک پہلو ہے۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایک دفعہ ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ میرے دو تین عزیز ہیں۔معصوم تھے لیکن قتل کے ایک کیس میں ملوث ہو گئے ہیں جج جو فیصلہ کرتا ہے وہ خدا کی طرح عَلَامُ الْغُيُوبِ تو نہیں ہوتا۔بعض دفعہ شرارت بھی کرتا ہے یہ بھی ایک پہلو ہے لیکن بہت دفعہ اپنی جہالت کی وجہ سے فیصلہ کر دیتا ہے گواہیوں پر اس نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔اسے خود پتہ بھی ہوتا ہے کہ وہ غلط فیصلہ کر رہا ہے لیکن اسے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ جن گواہوں کے بیان اس نے ریکارڈ کئے ہیں اور ان سے جو شکل بنتی ہے اسی کے مطابق اسے قدم لینا پڑتا ہے جو وہ لیتا ہے بہر حال ہمیں بھی اور ان کے عزیزوں کو بھی پتہ تھا کہ وہ بے گناہ ہیں۔خیر سیشن حج نے انہیں پھانسی کی سزادی پھر ہائیکورٹ میں اپیل کی مگر یہاں بھی پھانسی کی سزا Confirm ( کنفرم ) ہوئی پھر اپیل ہوئی سپریم کورٹ میں یہاں بھی سزا بحال رہی پھر انہوں نے گورنر صاحب کے پاس Mercy (مرسی یعنی رحم کی )