خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 240
خطبات ناصر جلد سوم ۲۴۰ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء کے درمیان نظر آتا ہے وہ بعد افریقہ میں نظر نہیں آتا، ایک عام معمولی آدمی وزیر سے بڑے دھڑلے کے ساتھ جا کر بات کرنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا کیونکہ اُن کا آپس میں کوئی بعد نہیں مگر یہاں بڑا بعد ہے یہاں پر وزیر تو ا لگ رہا وزیر کا چپڑاسی بھی اچھے بھلے شریف آدمیوں کو بعض دفعہ دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے لیکن وہاں تو ایک وزیر بھی ایسا نہیں کر سکتا اُن کا معاشرہ ہی ایسا ہے اسے میں اسلام کا معاشرہ تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ اسلام کا معاشرہ اس سے بھی زیادہ حسین ہے لیکن ہمارے ملک کے معاشرہ کے مقابلہ میں وہ معاشرہ اسلامی معاشرہ کے زیادہ قریب ہے۔پس ہمارا یہ معاشرہ یعنی انسانی مساوات که انسان انسان میں کوئی فرق نہیں یہ پوری طرح قائم نہیں ہو سکتا جب تک ہم ہر شعبہ میں یہ ثابت نہ کریں کہ انسان انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں اور ایک شعبہ ہمارا جامعہ احمدیہ کا ہے وہاں جو ہمارےMillionaire ( ملین ایر ) اگر کوئی ہوں ہماری جماعت میں تو ان کے بچے بھی آنے چاہئیں اور ایک جیسے ماحول میں انہیں تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور پھر ایک جیسی پابندیوں کے ساتھ انہیں باہر جا کر تبلیغ کرنی چاہیے تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اندر حقیقی معنی میں مساوات قائم ہے۔اگر دنیا آج ہمیں یہ کہے کہ مساوات قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہو لیکن تمہارا جامعہ احمدیہ جہاں سے تمہارے مبلغ بن کر نکلتے ہیں وہاں غریبوں کے بچے بھی ہیں متوسط خاندانوں کے بچے بھی ہیں لیکن امیر گھرانے کا کوئی بچہ نہیں کیا جواب دیں گے آپ یا کیا میں جواب دے سکتا ہوں؟ یہ حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ جامعہ احمدیہ میں صحیح اسلامی معاشرہ کا امکان امراء کی غفلت کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوسکا۔پس امیروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے ذہین بچوں کو جامعہ احمدیہ میں بھجوائیں اور اس کے مطابق ان کی تربیت کریں۔بعض نے کی ہے مثلاً ہمارے مرزا عبدالحق صاحب بڑے اچھے اور کامیاب وکیل ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیسہ بھی دیا ہے ان کا ایک بچہ یہاں جامعہ احدیہ میں پڑھتا رہا ہے آجکل بیچارا جرمنی میں ہے بے چارا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ مصیبت میں ہے اس کا آگے پڑھائی کا کام نہیں ہو رہا بہر حال وہ جامعہ احمدیہ میں اپنے خرچ پر پڑھا اور پھر جرمنی چلا گیا اب تو اس کا وظیفہ بھی مصر سے آ گیا تھا لیکن