خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد سوم ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۷۰ء میں نے اسے ہدایت کی تھی کہ نہیں! اب تم جن تکالیف سے گذرے ہو شاید اللہ تعالیٰ کا یہی منشاء ہو کہ تم جرمن زبان اچھی طرح سے سیکھ لو اس لئے اب جرمنی میں ہی رہو اور جرمن زبان سیکھو۔خدا کرے اس میں وہ کامیاب ہو جائے زبان سیکھنے کا ملکہ بھی کسی کسی کو ہوتا ہے ہر ایک کو نہیں ہوتا۔بہر حال ہمارے جامعہ احمدیہ میں امیروں کے بچے بھی آنے چاہئیں ، متوسط طبقہ کے بھی آنے چاہئیں اور غریبوں کے بچے بھی آنے چاہئیں لیکن سارے کے سارے ذہین ہونے چاہئیں اور بڑے مخلص ہونے چاہئیں اور سعید الفطرت ہونے چاہئیں ویسے تو کسی نے یہ ٹھیکہ نہیں لیا کہ فطرتی سعادت پر انسان ہمیشہ قائم رہے ٹھوکریں بھی لگ جاتی ہیں۔بلعم باعور کے قصے بھی ہم نے پڑھے ہیں۔اچھے اچھے مخلص خاندانوں کے بچے بھی خراب ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ نہایت ذلیل اور کمینے اور دہریہ اور اللہ تعالیٰ کی ہستی سے بیزار اور مذہب سے نفرت کرنے والے گھروں میں متقی اور پر ہیز گار اور خدا کا خوف رکھنے والے اور خشیتہ اللہ سے جن کے سینے معمور ہوں وہ پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ یہ اللہ ہے جو مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے یہ چکر تو اپنی جگہ چل رہا ہے لیکن جہاں تک ہمارا تعلق ہے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ظاہر پر اپنا حکم جاری کرو اور اسی کے مطابق فیصلہ دو۔پس ظاہری طور پر مخلص، دیندار اور ایثار پیشہ، اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت رکھنے والے، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی محبت سے جن کے سینے پر اور دل منور ہوں ایسے بچے ہمیں چاہئیں اور ہر طبقے سے چاہئیں تا کہ ہم صحیح ذہنی اور اخلاقی نشو ونما کرسکیں۔پس اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک Representative ری پری زمینٹیٹو ) یعنی نمائندہ گروہ جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہا ہو۔سب طبقوں کی نمائندگی کر رہا ہو اور صحیح معاشرہ اور صحیح معاشرہ کے اسباق کی نشاندہی کر رہا ہو۔آخر انہوں نے باہر جا کر دنیا کا معلم بننا ہے ان میں سے ہر ایک کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ امیر کی تھنکنگ کیا ہے؟ یہ صحیح ہے کہ ہماری تھنکنگ یعنی ہماری سوچ اور فکر کا اسلوب دوسروں سے مختلف ہوگا لیکن ایک امیر کے لڑکے کا اسلوب متوسط اور غریب طبقہ سے بھی مختلف ہوگا وہاں آکر وہ آپس میں سموئے جائیں گے ان کی ذہنی تربیت ہوگی ان کی اخلاقی تربیت ہوگی پھر وہ جو امیر کا بچہ ہے وہ یہ دیکھے گا کہ میں غریب کے بچے