خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 239
خطبات ناصر جلد سوم ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۱۷ / جولائی ۱۹۷۰ء لیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور تم وہ بھیٹر پیش کر رہے ہو جس کے اوپر گوشت ہی نہیں اور ہڈیاں بھی اس کی گلی ہوئی ہیں اور آدھ موا چمڑا اس کے اوپر ہے یعنی اس کے اندر کوئی قابلیت نہیں اور آکر کہتے ہیں کہ چونکہ دنیا میں اس کے لئے کہیں اور راستہ نہیں اس لئے آپ اسے جامعہ احمدیہ میں داخل کر لیں۔ایسا بچہ مبلغ کیسے بن سکتا ہے؟ اس extreme (ایکسٹریم ) یا مثال کے بچے کو تو ہم بہر حال داخل نہیں کرتے لیکن اور بہت ساری مثالیں ہیں کہ جو اس قسم کے لڑکے آکر داخل ہو جاتے ہیں لیکن دراصل نہ اُن کا حق ہوتا ہے نہ اہلیت ہوتی ہے۔پھر میرے نزدیک جو اوسط درجہ کا طالب علم آتا ہے یہ بھی درست نہیں دین کے لئے ٹاپ کا ، نہایت اعلیٰ درجہ کا ذہن وقف ہونا چاہیے یعنی ایسا ذہن کہ اس سے بہتر کوئی اور ذہن نہ ہو، بہت سارے ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں بعض سادگی میں بھی بات کر دیتے ہیں۔پچھلے سال ایک صاحب جنہوں نے اپنا بچہ دین کے لئے وقف کیا ہوا تھا اُن سے میری ذاتی واقفیت بھی ہے پھر اُن کا کام بھی ایسا ہے کہ وہ مجھے بڑی کثرت سے ملتے رہتے ہیں ان کا بچہ بھی ملتا رہتا تھا اس نے میٹرک میں نہایت اعلیٰ درجہ کی فسٹ ڈویژن کی وہ میرے پاس آگئے کہ یہ بچہ کہتا ہے کہ میرے اتنے اچھے نمبر ہیں مجھے شاید وظیفہ بھی مل جائے مجھے اجازت دیں کہ میں کسی کالج میں داخل ہو جاؤں اور سائنس پڑھوں یا کسی اور مضمون میں آگے ترقی کروں مجھے پتہ تھا کہ یہ وسوسہ ہے جو بڑی جلدی دُور ہو جائے گا میں نے مسکرا کر اُن سے کہا کہ نہیں! میں اس کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ تم وقف ہو جا کر جامعہ احمدیہ میں داخل ہو جاؤ اسی قسم کے بعض دوسرے لوگ بھی میرے پاس آتے ہیں۔پس ایک تو دین کے لئے ہمیں اچھے ذہن چاہئیں دوسرے معاشرہ کے لحاظ سے جامعہ احمدیہ میں ایک سمویا ہوا گر وہ ہونا چاہیے یعنی غریبوں کے بچے بھی ہوں، متوسط خاندانوں کے بچے بھی ہوں اور اچھے امیروں کے بچے بھی وہاں آئیں اگر یہ نہیں ہوگا تو ان کی صحیح تربیت نہیں ہو سکے گی صحیح تربیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ غریب اور متوسط اور امیر گھرانوں کا بڑا اچھا تعلق ہو ورنہ تو معاشرہ خراب ہو جاتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ جو بعد ہمیں یہاں ایک وزیر اور ایک عام آدمی