خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 220

خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کر دیئے۔پریشانی اس طرح ہوتی ہے کہ ہماری بات، ہمارے حالات وہاں پہنچنے میں بعض دفعہ مہینہ لگ جاتا ہے اور وہاں بہت ساری جگہوں میں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ مثلاً پاکستان اور انگلستان میں کیا ہورہا ہے وہ مجھے ڈر ڈر کر لکھتے ہیں کہ یہاں فلاں جگہ بھی ہسپتال کھل سکتا ہے۔فلاں جگہ بھی سکول کھل سکتا ہے آدمیوں کا انتظام اور یہ اور وہ۔انہیں یہ خیال ہے کہ شاید پیسے نہ ہوں انتظام نہ ہو سکے۔شاید آدمی میسر نہ آئیں۔میں انہیں خط لکھ رہا ہوں پتہ نہیں کتنے دنوں کے بعد انہیں پہنچتا ہے۔ہمارے اپنے بعض خطوط ۲۰، ۲۵ دن تک بھی وہاں نہیں پہنچے تھے بعد میں چکر لگا کر ہمارے پاس یہاں پہنچے ہیں۔ان کو میں نے لکھ بھیجا ہے کہ میرے پاس سب کچھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے روپیہ بھی دے دیا ہے آدمی بھی دے دیئے ہیں تم دوڑنے کی کوشش کرو، اب چلنا ہمارے لئے کافی نہیں اب دوڑنے کا وقت آگیا ہے پس میں یہ چاہتا ہوں اور آپ سے بھی یہ توقع رکھتا ہوں کہ آپ بھی میری اس دعا میں اپنی دعاؤں کو شامل کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ سامان پیدا کر دے کہ سال ڈیڑھ سال کے اندر کم از کم ۳۰ میڈیکل کلینک وہاں ان ملکوں میں کھول دیئے جائیں اس لئے کہ میڈیکل سنٹر یا ہیلتھ سنٹر جو ہے وہ ہمارے کام کرنے کی دراصل بنیاد بنتا ہے ہر ایک کلینک اوسطاً اڑ ہائی ہزار پاؤنڈ سالانہ کما رہا ہے یعنی سارے اخراجات کے بعد اتنی سیونگ ہورہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک میں ہمارے چار سنٹر ہیں وہاں دس ہزار پاؤنڈ کی سیونگ ہوتی ہے۔پھر ہمیں یہ فکر نہیں رہتی کہ دنیا کے حالات بدل رہے ہیں بہت سارے ملکوں میں آزادی تھی کہ اس ملک کی کرنسی جہاں اور جتنی مرضی ہو باہر بھیج دو مگر اب وہ پابندیاں لگا رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ ایک اور عالمگیر جنگ جو اس وقت Horizon (ہوریزن ) پر نظر آرہی ہے اس کی وجہ سے کوئی ایسا وقت آ جائے کہ ہم باہر سے ایک پیسہ بھی وہاں بھجوا نہ سکیں اس لئے ان ملکوں میں ہماری آمد کے ذرائع پیدا ہونے چاہئیں اور یہ تو ہم خرما و ہم ثواب والی بات ہے۔ہم ان کی خدمت بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں پیسے بھی دیتا ہے اور ان کو بھی پتہ ہے اور ہمیں بھی پتہ ہے کہ ہم نے یہ پیسے باہر لے کر نہیں جانے ان کے ملکوں ہی میں خرچ کر دیں گے۔پس وہاں کے مبلغوں کی تنخواہیں ہیں اور وہاں کے سکولوں کے ابتدائی اخراجات ہیں کیونکہ وہاں کے سکول پہلے دو سال میں خرچ